ملفوظات (جلد 9) — Page 267
میں ہے؟ آنحضرتؐنے کہا کہ خاموش رہو اس کا جواب نہ دو۔خاموشی سے اسے خوشی ہوئی کہ فوت ہوگئے ہوںگے اس واسطے جواب نہیں آیا۔پھر اسی طرح اس نے حضرت ابو بکرؓ کے متعلق آواز دیا۔تب بھی ادھر سے خاموشی اختیار کی۔پھر اس نے حضرت عمرؓ کے متعلق آواز دیا۔حضرت عمرؓسے نہ رہا گیا۔انہوں نے کہا کمبخت کیا بکتا ہے۔سب زندہ ہیں۔ایسی تلخیوں کا دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے مگر ان کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۱ فرمایا کہ اب اس کے بعد کفّار ہم پر چڑھائی نہ کریں گے بلکہ ہم کفّار پر چڑھائی کریں گے۔مکہ سے نکلنے کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسی تلخی کا وقت تھا۔ہمارے مخالف اس بات پر خوش ہوتے ہوں گے کہ ان کا بیٹا مَر گیا۔مگر اس میں تو پیشگوئی پوری ہوئی ہے اور نیز خدا کے ساتھ جو زندگی ہوتی ہے وہ مصائب اور شدائد کے ساتھ ملی جلی ہوتی ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کتنے ہی لڑکے فوت ہوئے تھے۔ایسا ہی کفّار نے اس وقت بھی خوشیاں منائی ہوں گی۔دشمن میں ہمدردی کی طاقت سلب ہو جاتی ہے مگر آخری فیصلہ خدا کے پاس ہے اور تمام باتوں کو ملاکر یکجائی نظر سے دیکھنا چاہیے کہ انجام کیا ہوتا ہے خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم لوگوں کو اسی سنّت پر لائے جو قرآن کریم میں مرقوم ہے کیونکہ پہلے تمام انبیاء پر مصائب شدائد پڑتے رہے۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ تم پر ان آزمائشوں کا پڑنا ضروری ہے جو پہلوں پر پڑیں۔ان امتحانوں میں پاس ہونے کے بعد تم سچے مومن کہلا سکتے ہو۔آنحضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبکہ اپنی خواب کی بنا پر حج کے واسطے گرمی میں سفر کیا تھا اور پھر اس سال حج نہ ہوا تو یہ اَمر بہتوں کے واسطے موجب ابتلا ہوا تھا مگر اس کے بعد خدا تعالیٰ نے بہت ساری فتوحات دیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مصائب سب سے بڑھ کر تھے تمام انبیاء پر مصائب اور تکالیف پڑیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو تکالیف آئیں وہ سب سے بڑھ کر تھیں حضرت عیسیٰ کا وقت بھی بہت تھوڑا تھا صرف تین سال لوگوں کو تبلیغ کی وہ بھی اکثر حصہ ۱غزوہ خندق کے بعد الفاظ معلوم ہوتا ہے سہواً رہ گئے ہیں۔(مرتّب)