ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 265

سے تعلق نہ ہو اور خدا تعالیٰ سے استغفار کرتے رہنا چاہیے۔(۲) ننگوں کے ساتھ میل جول افریقہ سے ایک دوست نے بذریعہ تحریر حضرت سے دریافت کیا کہ اس جگہ کے اصلی باشندے مرد و زن بالکل ننگے رہتے ہیں اور معمولی خورد و نوش کی اشیاء کا لین دین ان کے ساتھ ہی ہوتا ہے تو کیا ایسے لوگوں سے ملنا جلنا گناہ تو نہیں؟ حضرت نے فرمایا کہ تم نے تو ان کو نہیں کہا کہ ننگے رہو وہ خود ہی ایسا کرتے ہیں۔اس میں تم کو کیا گناہ؟ وہ ایسے ہی ہیں جیسے کہ ہمارے ملک میں بعض فقیر اور دیوانے ننگے پھرا کرتے ہیں۔ہاں ایسے لوگوں کو کپڑے پہننے کی عادت ڈالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ایسے ہی لوگوں کی نسبت یہ بھی سوال کیا گیا کہ چونکہ ملک افریقہ میں غریب لوگ بھی ہیں جو نوکری پر بآسانی سستے مل سکتے ہیں۔اگر ایسے لوگوں سے کھانا پکوایا جائے تو یہ کیا جائز ہے؟ یہ لوگ حرام حلال کی پہچان نہیں رکھتے۔فرمایا۔اس ملک کے حالات کے لحاظ سےجائز ہے کہ ان کو نوکررکھ لیاجائے اور اپنے کھانے وغیرہ کے متعلق ان سے احتیاط کرائی جائے۔(۳) ایسی عورتوں سے نکاح یہ بھی سوال ہوا کہ کیا ایسی عورتوں سے نکاح جائز ہے؟ فرمایا۔اس ملک میں اور ان علاقوںمیں بحالت اضطرار ایسی عورتوں سے نکاح جائز ہے لیکن صورت نکاح میں ان کو کپڑے پہنانے اور اسلامی شعار پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔نوٹوں پر کمیشن حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی خدمت میں ایک صاحب کا سوال پیش ہوا کہ نوٹوں کے بدلے روپیہ لینے یا دینے کے وقت یا پونڈ یا روپیہ توڑانے کے وقت دستور ہے کہ کچھ پیسے زائد لیے یا دیئے جاتے ہیں کیا اس قسم کا کمیشن لینا یا دینا جائز ہے؟ حضرت نے فرمایا۔یہ جائز ہے اور سود میں داخل نہیں۔ایک شخص وقت ضرورت ہم کو نوٹ بہم