ملفوظات (جلد 9) — Page 264
گوہ کا کھانا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز رکھا ہے مگر خود کھانا پسند نہیں فرمایا۔یہ اسی طرح کی بات ہے جیسا کہ شیخ سعدی نے فرمایا ہے۔؎ سعدیا حب وطن گرچہ حدیث است درست نتوان مرد بہ سختی کہ درین جا زادم بد امنی کی جگہ پر احمدی کا کردار سرحد پار کے علاقہ جات سے ایک جگہ سے چند احمدیوں کا ایک خط حضرت کی خدمت میںپہنچا کہ اس جگہ بد امنی ہے لوگ آپس میں ایک دوسرے پر حملہ کرتے ہیں۔کوئی پرسان نہیں۔چند ملاں ہم کو قتل کرنا چاہتے ہیں کیا آپ کی اجازت ہے کہ ہم بھی ان کو قتل کرنے کی کوشش کریں؟ حضرت نے فرمایا کہ ایسا مت کرو۔ہر طرح سے اپنی حفاظت کرو لیکن خود کسی پر حملہ نہ کرو۔تکالیف اٹھاؤ اور صبر کرو۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ تمہارے لیے کوئی انتظام احسن کر دے۔جو شخص تقویٰ کرتا ہے اور صبر کرتا ہے۔خدا اس کے ساتھ ہوتا ہے۔اضطراری حالات کے بعض مسائل (۱) آبکاری کی تحصیلداری ایک دوست جو محکمہ آبکاری میں نائب تحصیلدار ہیں ان کا خط حضرت کی خدمت میں آیا اور انہوں نے دریافت کیا کہ کیا اس قسم کی نوکری ہمارے واسطے جائز ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ اس وقت ہندوستان میں ایسے تمام امور حالت اضطرار میں داخل ہیں۔تحصیلدار یا نائب تحصیلدار نہ شراب بناتا ہے نہ بیچتا ہے نہ پیتا ہے۔صرف اس کی انتظامی نگرانی ہے اور بلحاظ سرکاری ملازمت کے اس کا فرض ہے۔ملک کی سلطنت اور حالات موجودہ کے لحاظ سے اضطراراً یہ اَمر جائز ہے۔ہاں خدا تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہیے کہ وہ انسان کے واسطے اس سے بھی بہتر سامان پیدا کرے۔گورنمنٹ کے ماتحت ایسی ملازمتیں بھی ہوسکتی ہیں جن کا ایسی باتوں