ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 17

نے فرض ادا کرنا ہے۔میں جانتا ہوں بہت سے لوگ میری جماعت میں داخل تو ہیں اور وہ توحید کا اقرار بھی کرتے ہیں مگر میں افسوس سے کہتا ہوں کہ وہ مانتے نہیں۔جو شخص اپنے بھائی کا حق مارتا ہے یا خیانت کرتا ہے یا دوسری قسم کی بدیوں سے باز نہیں آتا۔میں یقین نہیں کرتا کہ وہ توحید کا ماننے والا ہے۔۱ کیونکہ یہ ایک ایسی نعمت ہے کہ اس کو پاتے ہی انسان میں ایک خارق عادت تبدیلی ہوجاتی ہے۔اس میں بغض، کینہ، حسد، ریا وغیرہ کے بُت نہیں رہتے اور خدا تعالیٰ سے اس کا قرب ہوتا ہے۔یہ تبدیلی اسی وقت ہوتی ہے اور اسی وقت وہ سچا موحد بنتا ہے۔جب یہ اندرونی بُت تکبر، خود پسندی، ریا کاری، کینہ و عداوت، حسد و بخل، نفاق و بد عہدی وغیرہ کے دور ہوجاویں۔جب تک یہ بُت اندر ہی ہیں۔اس وقت تک لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہنے میں کیونکر سچا ٹھہر سکتا ہے؟ کیونکہ اس میں تو کل کی نفی مقصود ہے پس یہ پکی بات ہے کہ صرف منہ سے کہہ دینا کہ خدا کو وحدہٗ لاشریک مانتا ہوں کوئی نفع نہیں دے سکتا۔ابھی منہ سے کلمہ پڑھتا ہے اور ابھی کوئی اَمر ذرا مخالف مزاج ہوا اور غصہ اور غضب کو خدا بنا لیا۔میں بار بار کہتا ہوں کہ اس اَمر کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک یہ مخفی معبود موجود ہوں ہرگز توقع نہ کرو کہ تم اس مقام کو حاصل کر لو گے جو ایک سچے موحد کوملتا ہے جیسے جب تک چوہے زمین میں ہیں مت خیال کرو کہ طاعون سے محفوظ ہو۔اسی طرح پر جب تک یہ چوہے اندر ہیں اس وقت تک ایمان خطرہ میں ہے۔۲ جو کچھ میں کہتا ہوں اس کو خوب غور سے سنو اور اس پر عمل کرنے کے لیے قدم اٹھاؤ۔میں نہیں جانتا کہ اس مجمع میںجو لوگ موجود ہیں آئندہ ان میں سے ۱ بدر سے۔’’خدا کے واحد ماننے کے ساتھ یہ لازم ہے کہ اس کی مخلوق کی حقوق تلفی نہ کی جاوے جو شخص اپنے بھائی کا حق تلف کرتا ہے اور اس کی خیانت کرتا ہے وہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کا قائل نہیں۔‘‘ (بدر جلد ۶نمبر ۱،۲ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۲) ۲ بدر سے۔’’جب تک کہ کل جھوٹے معبود جو کہ چوہوں کی طرح انسان کے دل کی زمین کو وبا زدہ کرتے ہیں بھسم نہ کر دیئے جاویں تب تک انسان صاف نہیں ہوسکتا۔جیساکہ زمینی چوہے طاعون لانے والے ہوتے ہیں ایسا ہی یہ چوہے انسان کے دل کو خراب کر کے اسے ہلاکت تک پہنچا دیتے ہیں۔‘‘ (بدر جلد ۶نمبر ۱،۲ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۲)