ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 258

غرض یہی طریق ہے جس سے انسان خدا کو راضی کر سکتا ہے نہیں تو اگر خدا کے ساتھ شریک بن جاوے اور اپنی مرضی کے مطابق اسے چلانا چاہے تو یہ ایک خطرناک راستہ ہوگا جس کا انجام ہلاکت ہے۔ہماری جماعت کو منتظر رہنا چاہیے کہ اگر کوئی ترقی کا ایسا موقع آجاوے تو اس کو خوشی سے قبول کیا جاوے۔آج رات کو ( مبارک احمد نے) مجھے بُلایا اور اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیا اور مصافحہ کیا جیسے اب کہیں رخصت ہوتا ہے اور آخری ملاقات کرتا ہے۔جب یہ الہام اِنِّیْ اَسْقُطُ مِنَ اللہِ وَاُصِیْبُہٗ ہوا تھا تو میرے دل میں کھٹکا ہی تھا۔اسی واسطے میں نے لکھ دیا تھا کہ یا یہ لڑکا نیک ہوگا اور روبخدا ہوگا اور یا یہ کہ جلد فوت ہوجائے گا۔قرآن شریف پڑھ لیا تھا۔کچھ کچھ اردو بھی پڑھ لیتا تھا اورجس دن بیماری سے افاقہ ہوا۔میرا سارا اشتہار پڑھا اور یا کبھی کبھی پرندوں کے ساتھ کھیلنے میں مشغول ہو جاتا تھا۔فرمایا۔بڑا ہی بد قسمت وہ انسان ہے جو خدا تعالیٰ کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتا ہے۔خدا کے ساتھ تو دوست والا معاملہ چاہیے۔کبھی اس کی مان لی اور کبھی اپنی منوالی۔؎ ز بخت خویش برخوردار باشی بشرط آن کہ با من یار باشی ہمارے گاؤں میں ایک شخص تھا۔اس کی گائے بیمار ہوگئی۔صحت کے لیے دعائیں مانگتا رہا ہوگا مگر جب گائے مَر گئی تو وہ دہریہ ہوگیا۔خدا نے اپنی قضاء و قدر کے راز مخفی رکھے ہیں اور اس میں ہزاروں مصالح ہوتے ہیں۔میرا تجربہ ہے کہ کوئی انسان بھی اپنے معمولی مجاہدات اور ریاضات سے وہ قرب نہیں پاسکتا جو خدا کی طرف سے ابتلا آنے پر پا سکتا ہے۔زور کا تازیانہ اپنے بدن پر کون مارتا ہے۔خدا بڑا رحیم و کریم ہے۔ہم نے تو آزمایا ہے ایک تھوڑا سا دکھ دے کر بڑے بڑے انعام و اکرام عنایت فرماتا ہے۔وہ جہان ابدی ہے۔جو لوگ ہم سے جدا ہوتے ہیں وہ تو واپس نہیں آسکتے ہاں ہم جلدی ان کے پاس چلے