ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 16

تو ہزاروں بُت انسان بغل میں لیے پھرتا ہے اور وہ لوگ بھی جو فلسفی اور منطقی کہلاتے ہیں۔وہ بھی ان کو اندر سے نکال نہیں سکتے۔اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے سوا یہ کیڑے اندر سے نکل نہیں سکتے۔یہ بہت ہی باریک کیڑے ہیں اور سب سے زیادہ ضرر اور نقصان ان کا ہی ہے۔جو لوگ جذبات نفسانی سے متاثر ہو کر اللہ تعالیٰ کے حقوق اور حدود سے باہر ہوجاتے ہیں اور اس طرح پر حقوق العباد کو بھی تلف کرتے ہیں وہ ایسے نہیں کہ پڑھے لکھے نہیں بلکہ ان میں ہزاروں کو مولوی فاضل اور عالم پاؤ گے اور بہت ہوں گے جو فقیہ اور صوفی کہلاتے ہوں گے مگر باوجود ان باتوں کے وہ بھی ان امراض میں مبتلا نکلیں گے ان بتوں سے پرہیز کرنا ہی تو بہادری ہے اور ان کو شناخت کرنا ہی کمال دانائی اور دانشمندی ہے۔یہی بُت ہیں جن کی وجہ سے آپس میں نفاق پڑتا ہے اور ہزاروں کشت و خون ہوجاتے ہیں۔ایک بھائی دوسرے کا حق مارتا ہے اور اسی طرح ہزاروں ہزار بدیاں ان کے سبب سے ہوتی ہیں۔ہر روز اور ہر آن ہوتی ہیں اور اسباب پراس قدر بھروسہ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کو محض ایک عضو معطل قرار دے رکھا ہے۔بہت ہی کم لوگ ہیں جنہوں نے توحید کے اصل مفہوم کو سمجھا ہے۔اور اگر انہیں کہا جاوے تو جھٹ کہہ دیتے ہیں کیا ہم مسلمان نہیں اور کلمہ نہیں پڑھتے؟ مگر افسوس تو یہ ہے کہ انہوں نے اتنا ہی سمجھ لیا ہے کہ بس کلمہ منہ سے پڑھ دیا اور یہ کافی ہے۔میں یقیناً کہتا ہوں کہ اگر انسان کلمہ طیبہ کی حقیقت سے واقف ہو جاوے اور عملی طور پر اس پر کاربند ہو جاوے تو وہ بہت بڑی ترقی کر سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرتوں کا مشاہدہ کر سکتا ہے یہ اَمر خوب سمجھ لو کہ میں جو اس مقام پر کھڑا ہوں میں معمولی واعظ کی حیثیت سے نہیں کھڑا ہوں اور کوئی کہانی سنانے کے لیے نہیں کھڑا ہوں بلکہ میں تو ادائے شہادت کے لیے کھڑا ہوں میں نے وہ پیغام جو اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے پہنچا دینا ہے۔اس اَمر کی مجھے پروا نہیں کہ کوئی اسے سنتا ہے یا نہیں سنتا اور مانتا ہے یا نہیں مانتا۔اس کا جواب تم خود دو گے۔میں