ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 230

فرماتا ہے کہ نشان جب آئیں گے تو پھر اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا؟ (پھر لیکھرام کے نشان کا ذکر فرماتے رہے) حکومت سے تعاون قیصر کی چٹھی متعلقہ طاعون کا ذکر کر کے حضور نے فرمایا۔ہم نے ایک اعلان کے ذریعہ لکھ دیا ہے کہ ایسے امور میں گورنمنٹ کو ہر قسم کی مدد دینے کو تیار رہیں۔ہم اپنی جماعت کو بھی یہی تاکید کریں گے کہ وہ خاص احتیاط کرے اور گورنمنٹ کی ہدایت کے بموجب جب ضرورت پڑے باہر کھلے میدانوں اور کھلی ہوا میں چلی جاوے۔ہماری تمام جماعت ایسے امور میں گورنمنٹ کو خاص امداد دے گی کیونکہ وہ گورنمنٹ کی خیرخواہی کو اپنا مذہبی فرض سمجھتی ہے۔اپنی حفاظت کے لیے حکومت کو توجہ دلائی جائے ایک معزز خادم نے عرض کی کہ پشاور جیسے سرحدی مقام پر کیا کیا جاوے کیونکہ وہاں تو لوگ قتل سے نہیں ڈرتے۔وہ انجام کو نہیں سوچتے۔ادنیٰ ادنیٰ باتوں پر قتل ہوجاتے ہیں۔ایک شخص نے ڈیڑھ روپیہ قرضہ دینا تھا۔اس پر یہاں تک نوبت پہنچی کہ تین آدمی قتل ہوگئے اور قاتل علاقہ غیر میں بھاگ گئے۔ان باتوں کو سن کر فرمایا۔ایسے مقامات پر گورنمنٹ کو توجہ دلائی جاوے تو وہ ہماری جماعت کی طرف خاص توجہ کرے گی اور حفاظت کے سامان بہم پہنچاوے گی۔کیونکہ یہ بالکل سچ ہے کہ بعض اضلاع میں لوگ ڈاکہ کے عادی ہیں اور ہماری جماعت سے بھی خاص دشمنی رکھتے ہیں اس لیے خاص طور پر گورنمنٹ کو حفاظت کا انتظام کرنا چاہیے۔ہم گورنمنٹ کی ہدایتوں پر عمل کرنے کو تیار ہیں مگر ایسے خطرناک مقامات کے لیے ہم یہ ضرور کہیں گے کہ چونکہ ڈاکو لوگ مخالف مولویوں کے بھڑکانے سے اور بھی تکلیف دینے پر آمادہ ہو جائیں گے اس لیے گورنمنٹ کو حفاظت کا پورا انتظام کرنا چاہیے ایسے موقع پر کافی اور مسلح پہرہ اگر ہو تو خطرہ دور ہو سکتا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو پھر طاعون نے نہ مارا تو ڈاکوؤں نے مار دیا۔۱ ۱الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۱ مورخہ ۳۱؍اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۲،۱۳