ملفوظات (جلد 9) — Page 221
مست رہتے ہیں اور دین کی ذرّہ بھی پروا نہیں کرتے اور مذہب سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے۔وہ ہماری مخالفت کرتے اور ہمارانام سنتے ہی آگ بگولا ہوجاتے ہیں۔ان کے نزدیک اگر تمام دنیا سے بدتر ہوں تو میں ہی ہوں۔سو ایسے لوگوں کا فیصلہ تو اب خدا خود کرے گا۔ایسوں کو کیا جواب دیا جاوے ان کا فیصلہ تو خدا کے پاس ہے۔قرآن مجید میں ایسے لوگوں کے بہت گندوں اور شرارتوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔صرف اشارات ہی پائے جاتے ہیں۔مثلاً ایسے لوگوں کی بابت لکھا ہے کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کہتے تھے کہ جب قرآن پڑھا جاوے تو شور ڈالا کرو اور تالیاں بجایا کرو اور پھر بعض لوگ ایسے بھی تھے جن کی نسبت اللہ کریم فرماتا ہے وَ اِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ۠(البقرۃ:۱۵) اور ایسے لوگ بہت پائے جاتے تھے جو دوسروں کو کہتے تھے کہ جھوٹے طور پر بیعت کر آؤ اور پھر کہو کہ ہم سب کچھ دیکھ آئے ہیں کوئی بات نہیں وہ تو دوکانداری ہے اور پھر مرتد ہوجاؤ اور پھر ایسے لوگوں کو جو بیعت کر کے پھرجاتے تھے، پیش کر کے کہتے تھے کہ دیکھو! یہ تجربہ کار لوگ ہیں مرتد ہوگئے ہیں۔یہ محض جھوٹا سلسلہ ہے۔ایسا ہی چند آدمیوں نے ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ہے۔پہلے جھوٹے طور پر یہاں آکر بیعت کی۔پھر بعد ازاں یہاں سے جا کر چھپوا دیا کہ ہم سب کچھ دیکھ آئے ہیں کچھ بھی نہیں۔ہم بھی مرید ہوئے تھے سب پتا لیا محض دھوکا بازی ہے۔بیوقوف اتنا نہیں جانتے کہ آخر کار کام تو وہی ہو کر رہے گا اور وہی بہر صورت پورا ہو کر رہے گا جو ارادۂ الٰہی میں ہے۔خدا کی قدرت دیکھو کہ جہاں ہماری مخالفت میں زیادہ شور اٹھا ہے وہاں ہی زیادہ جماعت تیار ہوئی ہے۔جہاں مخالفت کم ہے وہاں ہماری جماعت بھی کم ہے۔ایک شخص نے سلسلہ تقریر میں عرض کی کہ اگر کوئی حقیقۃ الوحی کو خدا کے خوف سے پڑھے تو ضرور مان لیوے۔حضرت نے فرمایا۔خدا کا خوف ان میں رہا ہی کہاں ہے۔خدا کا خوف ہوتا تو ہماری مخالفت ہی کیوں کرتے۔خدا نے اتمامِ حجّت کر دی۔ہماری تائید میں بڑے بڑے نشان دکھائے گئے۔مگر ان لوگوں کا کیا کِیا