ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 199

لیے میرے نزدیک تو حرج کی بات نہیں۔ہر ایک عمل نیت پر موقوف ہے۔ایک ہی کام جب کسی غیراللہ کے نام پر ہو تو حرام اور اگر اللہ کے لیے ہو تو حلال ہو جاتا ہے۔بآواز بلند اپنی زبان میں دعا ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور امام اگر اپنی زبان میں (مثلاً اردو میں) بآواز بلند دعا مانگتا جائے اور پچھلے آمین کرتے جاویں تو کیا یہ جائز ہے جبکہ حضور کی تعلیم ہے کہ اپنی زبان میں دعائیں نماز میں کر لیا کرو۔فرمایا۔دعا کو بآواز بلند پڑھنے کی ضرورت کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے تو فرمایا تَضَرُّعًا وَّ خُفْيَةً(الاعراف:۵۶) اور دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ (الاعراف:۲۰۶) عرض کیا کہ قنوت تو پڑھ لیتے ہیں۔فرمایا۔ہاں ادعیہ ماثورہ جو قرآن و حدیث میں آچکی ہیں وہ بیشک پڑھ لی جاویں۔باقی دعائیں جو اپنے ذوق و حال کے مطابق ہیں وہ دل ہی میں پڑھنی چاہئیں۔کنویں کو پاک کرنے کے بارہ اصولی فتویٰ سوال ہوا کہ یہ جو مسئلہ ہے کہ جب چوہا یا بلی یا مرغی یا بکری یا آدمی کنوئیں میں مَر جاویں تو اتنے دَلْو پانی نکالنے چاہئیں۔اس کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے؟ پہلے تو ہمارا یہی عمل تھا کہ جب تک رنگ، بو، مزا نہ بدلے پانی کو پاک سمجھتے۔فرمایا۔ہمارا تو وہی مذہب ہے جو احادیث میں آیا ہے۔یہ جو حساب ہے کہ اتنے دَلْو نکالو اگر فلاں جانور پڑے اور اتنے اگر فلاں پڑے۔یہ ہمیں تو معلوم نہیں اور نہ اس پر ہمارا عمل ہے۔عرض کیا گیا کہ حضور نے فرمایا ہے جہاں سنّت صحیحہ سے پتا نہ ملے وہاں حنفی فقہ پر عمل کر لو۔فرمایا۔فقہ کی معتبر کتابوں میں بھی کب ایسا تعین ہے ہاں نجات المومنین میں لکھا ہے۔سو اس میں تو یہ بھی لکھا ہے۔سر ٹوئے وچہ دے کے بیٹھ نماز کرے کیا اس پر کوئی عمل کرتا ہے اور کیا یہ جائز ہے جبکہ حیض و نفاس کی حالت میں نماز منع ہے۔پس