ملفوظات (جلد 9) — Page 198
آریہ کب سمجھیں گے فرمایا۔بعض اخبارات کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لاجپت رائے اور اجیت سنگھ کی جلاوطنی سے آریوں کو پورے طور پر نصیحت حاصل نہیں ہوئی۔اس واقعہ کو وہ صرف ایک شخصی وبال خیال کرتے ہیں اور قومی وبال نہیں سمجھتے۔یہ ان کی غلطی ہے۔گورنمنٹ ان لوگوں کے ایسے حالات دیکھ کر اب ان کی نسبت ضرور محتاط رہے گی۔ان کو چاہیے کہ گورنمنٹ کے متعلق اپنے رویہ کو ہمیشہ کے واسطے درست کر لیں۔علم طب کی بنیاد ظنّیّات پر ہے فرمایا۔علم طب کی بنا بھی ظنّیّات پر ہے۔جب مرض الموت آتی ہےتو کوئی دوا شفا نہیں دیتی بلکہ ہر ایک دوا الٹی پڑتی ہے۔لیکن جب اللہ تعالیٰ شفا دینا چاہتا ہے تومعمولی دوائی بھی کارگر ہوجاتی ہے۔۱ ۹؍جولائی ۱۹۰۷ء نسل افزائی کے لیے سانڈ رکھنا ایک شخص نے سوال کیا کہ خالصۃً لِوجہِ اللہ نسل افزائی کی نیت اگر کوئی سانڈ چھوڑے تو کیا یہ جائز ہے؟ فرمایا۔اَصْلُ الْاَشْیَآءِ اِبَاحَۃٌ۔اشیاء کا اصل تو اباحت ہی ہے۔جنہیں خدا تعالیٰ نے حرام فرمایا وہ حرام ہیں باقی حلال۔بہت سی باتیں نیت پر موقوف ہیں۔میرے نزدیک تو یہ جائز بلکہ ثواب کا کام ہے۔عرض کیا گیا کہ قرآن مجید میں آیا ہے۔فرمایا۔میں نے جواب دیتے وقت اسے زیر نظر رکھ لیا ہے۔وہ تو دیوتوں کے نام پر دیتے۔یہاں خاص خدا تعالیٰ کے نام پر ہے۔نسل افزائی ایک ضروری بات ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں اَنْعَام وغیرہ کو اپنی نعمتوں سے فرمایا ہے۔سو اس نعمت کا قدر کرنا چاہیے اور قدر میں نسل کا بڑھانا بھی ہے۔پس اگر ایسا نہ ہو تو پھر چار پائے کمزور ہوں گے اور دنیا کے کام بخوبی نہ چل سکیں گے اس