ملفوظات (جلد 9) — Page 194
اس کی وجہ سے بہت سے لوگ علم حاصل کرتے ہیں۔بعض دفعہ کئی کئی دن تک ایک ایک دو دو روپیہ ہی آتے ہیں اور خرچ دوسرے دن کا سو روپیہ ہوتا ہے۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسری مدات کی تحریکات ہمیشہ ہوتی رہتی ہیں اور لنگر کی کوئی تحریک نہیں ہوتی۔۳ بلاتاریخ جس کے ہاں ماتم ہو اس کے ساتھ ہمدردی حضرت کی خدمت میں سوال پیش ہوا کہ کیا یہ جائز ہے کہ جب کارِ قضا کسی بھائی کے گھر میں ماتم ہوجائے تو دوسرے دوست اپنے گھر میں اس کا کھانا تیار کریں۔فرمایا۔نہ صرف جائز بلکہ برادرانہ ہمدردی کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ ایسا کیا جاوے۔۱ ۶؍جولائی ۱۹۰۷ء دجّال کے دو مظاہر فرمایا۔دجّال کی دو شانیں ہیں۔ایک تو پادری لوگ ہیں جو گویا نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ہر قسم کے مکر اور فریب کے ساتھ لوگوں کو بہکاتے ہیں اور عیسائی بناتے ہیں۔خود انجیل اور تورات کا ترجمہ در ترجمہ کرتے ہیں۔اصل کتاب ان کے پاس موجود نہیں۔تراجم میں ہمیشہ تبدیلیاں کرتے ہیں اور انہیں اپنے خیالات کے الفاظ کو دنیا کے سامنے پیش کر کے بیان کرتے ہیں کہ خدا کا کلام ہے یہ ایک طرح نبوت کا دعویٰ ہے۔دوسرے اس زمانہ کے فلسفی لوگ ہیں جو کہ خدا تعالیٰ کے ہی منکر ہو بیٹھے ہیں اور رات دن مادی دنیا کی طرف ایسے جھکے ہوئے ہیں کہ دین کو کچھ نہیں سمجھتے بلکہ دین کو غیر ضروری اور اپنی دنیوی ترقی کی راہ میں ایک حارج یقین کرتے ہیں۔