ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 179

زیر سایہ ہم ظالموں کے پنجہ سے محفوظ ہیں۔خدائے تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت ہے کہ اس نے اس گورنمنٹ کو اس بات کے لیے چن لیا کہ تا یہ فرقہ احمدیہ اس کے زیر سایہ ہو کر ظالموں کے خونخوار حملوں سے اپنے تئیں بچاوے اور ترقی کرے۔کیا تم یہ خیال کر سکتے ہو کہ تم سلطانِ روم کی عملداری میں رہ کر یا مکہ اورمدینہ میں ہی اپنا گھر بنا کر شریر لوگوں کے حملوں سے بچ سکتے ہو۔نہیں ہرگز نہیں۔بلکہ ایک ہفتہ میں ہی تم تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ گے۔تم سن چکے ہو کہ کس طرح صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب جو ریاست کابل کے ایک معزز اور بزرگوار اور نامور رئیس تھے جن کے مرید پچاس ہزار کے قریب تھے جب وہ میری جماعت میں داخل ہوئے تو محض اس قصور کی وجہ سے کہ وہ میری تعلیم کے موافق جہاد کے مخالف ہوگئے تھے۔امیر حبیب اللہ خاں نے نہایت بے رحمی سے ان کو سنگسار کرا دیا۔پس کیا تمہیں ایسے لوگوں سے کچھ توقع ہے کہ تمہیں ایسے سلاطین کے ماتحت کوئی خوشحالی میسر آئے گی۔بلکہ تم تمام اسلامی مخالف علماء کے فتووں کے رو سے واجب القتل ٹھہر چکے ہو۔سو خدا تعالیٰ کا یہ فضل اور احسان ہے کہ اس گورنمنٹ نے ایسا ہی تمہیں اپنے سایہءِ پناہ کے نیچے لے لیاجیسا کہ نجاشی بادشاہ نے جو عیسائی تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کو پناہ دی تھی میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا جیسا کہ نادان لوگ خیال کرتے ہیں نہ اس سے کوئی صلہ چاہتا ہوں بلکہ میں انصاف اور ایمان کے رو سے اپنا فرض دیکھتا ہوں کہ اس گورنمنٹ کی شکر گذاری کروں اور اپنی جماعت کو اطاعت کےلیے نصیحت کروں۔سو یاد رکھو اور خوب یاد رکھو! کہ ایسا شخص میری جماعت میں داخل نہیں رہ سکتا جو اس گورنمنٹ کے مقابل پر کوئی باغیانہ خیال رکھے اور میرے نزدیک یہ سخت بد ذاتی ہے کہ جس گورنمنٹ کے ذریعہ سے ہم ظالموں کے پنجہ سے بچائے جاتے ہیں اور اس کے زیر سایہ ہماری جماعت ترقی کر رہی ہے اس کے احسان کے ہم شکر گذار نہ ہوں اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ(الرحـمٰن:۶۱) یعنی احسان کا بدلہ احسان ہے اور حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ جو انسان کا شکر نہیں کرتا وہ خدا کا بھی شکر نہیں کرتا۔یہ تو سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے سایہ