ملفوظات (جلد 9) — Page 178
کرے۔کہتے ہیں کہ جالینوس حکیم ایک بادشاہ کے پاس ملازم تھا۔بادشاہ کی عادت تھی کہ ایسی ردّی چیزیں کھایا کرتا تھا جن سے جالینوس کو یقین تھا کہ بادشاہ کو جذام ہوجائے گا۔چنانچہ وہ ہمیشہ بادشاہ کو روکتا تھا مگر بادشاہ باز نہ آتا تھا۔اس سے تنگ آکر جالینوس وہاں سے بھاگ کر اپنے وطن کو چلا گیا۔کچھ عرصہ کے بعد بادشاہ کے بدن پر جذام کے آثار نمودار ہوئے۔تب بادشاہ نے اپنی غلطی کو سمجھا اور اس نے انکسار اختیار کیا۔اپنے بیٹےکو تخت پر بٹھایا اور خود فقیرانہ لباس پہن کر وہاں سے چل نکلا اور جالینوس کے پاس پہنچا۔جالینوس نے اس کو پہچانا اور بادشاہ کی تواضع اسے پسند آئی اور پورے زور سے اس کے علاج میںمصروف ہوا۔تب خدا نے اسے شفا دی۔۱ ۷؍مئی ۱۹۰۷ء بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اپنی جماعت کے لیے ضروری نصیحت چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ان دنوں میں بعض جاہل اور شریر لوگ اکثر ہندوؤں میں سے اور کچھ کچھ مسلمانوں میں سے گورنمنٹ کے مقابل ایسی ایسی حرکات ظاہر کرتے ہیں جن سے بغاوت کی بُو آتی ہے بلکہ مجھے شک ہوتا ہے کہ کسی وقت باغیانہ رنگ ان کی طبائع میں پیدا ہو جائے گا اس لیے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو جو مختلف مقامات پنجاب، ہندوستان میں موجود ہیں جو بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک ان کا شمار پہنچ گیا ہے۔نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں جو قریباً چھبیس برس سے تقریری اور تحریری طور پر ان کے ذہن نشین کرتا آیا ہوں یعنی یہ کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں کیونکہ وہ محسن گورنمنٹ ہے۔اس کے ظِل حمایت میں ہمارا یہ فرقہ احمدیہ چند سال میں لاکھوں تک پہنچ گیا ہے اور اس گورنمنٹ کا احسان ہے کہ اس کے