ملفوظات (جلد 9) — Page 8
اسلامی بادشاہوں کے متعلق سنا جاتا ہے کہ وہ ایسے مصائب کے وقت راتوں کو اٹھ کر رو رو کر دعائیں کرتے تھے۔جو لوگ خدا کو سچے دل سے ماننے والے ہوتے ہیں وہ یہ تماشا دیکھ لیتے ہیں کہ ذرّہ ذرّہ اس کے اختیار میں ہے۔یہاں تک کہ ہمارے سر کے بال بھی گنے ہوئے ہیں۔برخلاف اس کے آجکل کے تعلیم یافتوں کا یہ حال ہے کہ اپنی گفتگو میں لفظ انشاء اللہ بھی بولنا خلافِ تہذیب سمجھتے ہیں۔کتابوں کی کتابیں پڑھ جاؤ کہیں خدا کا نام تک نہیں آتا۔لیکن اب وقت آگیا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی ہستی کو منوانا چاہتا ہے۔۱ ۲۹؍نومبر ۱۹۰۶ء عمل صالح ایک درویش حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس نے ذکر کیا کہ پہلے میں بہت وظائف پڑھتا تھا اور مجھ پر فتوحات کا دروازہ کھلا تھا اور آمد ہوتی تھی مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ حالت جاتی رہی۔اب باوجود بہت وظائف پڑھنے کے کچھ نہیں آتا۔کوئی ایسا طریق بتلائیں کہ پھر وہ بات شروع ہوجاوے۔حضرت نے فرمایا۔فتوحات وغیرہ مقاصد کو مد نظر رکھنا ہماری شریعت کے نزدیک شرک ہے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت صرف اللہ کی خاطر کرنی چاہیے اس میں کسی اور بات کو نہ ملاؤ اور نہ کوئی اور نیت رکھو۔عمل صالح وہ ہے جس میں کوئی فساد نہ ہو۔اگر انسان کچھ دین کا بننا چاہے اور کچھ دنیا کا بننا چاہے تو یہ محض ایک فساد ہے۔ایسی حالت سے بچنا چاہیے۔خدا ایسے آدمیوں کو پسند نہیں کرتا۔عمل صالح وہ ہے جو محض خدا کے واسطے ہو۔پھر خدا تعالیٰ اپنے بندے کی پرورش آپ کرتا ہےا ور اس کے واسطے گذارے کی صورتیں خود بخود ظاہر ہوجاتی ہیں مگر یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔انسان کے واسطے مناسب نہیں کہ اپنی عبادت کے وقت ایسی باتوں کا خیال دل میں لائے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا رزق آسمانوں پر ہے دیکھو جب ایک انسان کسی دوسرے انسان کے ساتھ محبت رکھتا ہے تو ۱البدر جلد ۲ نمبر ۴۷ مورخہ ۲۲؍ نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۴