ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 167

تھا وہ کیا ہوا؟ وہ سب کیوں دریا بُرد ہوگئے؟ کہاں گئے اس کے وہ دعوے کہ یہ سلسلہ میرے سامنے تباہ ہوگا؟ عجیب بات ہے کہ موسیٰ تو طوفانِ طاعون میں غرق ہوگیا اور فرعون جیتا موجود ہے۔انذاری الہام تو پورا ہوا یا نہ ہوا مگر وہ مبشرات کیا ہوئے۔انذاری خبر تو بجائے خود ایک عذاب ہے۔جس شخص کو بتا دیا جائے کہ تین دن بعد تم پھانسی ملو گے اس کے دل پر جو گذرتی ہے اور گذرنی چاہیے وہ ہر ایک شخص جانتا ہے۔الہام تو وہ ہوتا ہے جس سے کچھ تسکین و راحت ہو نہ کہ الٹا عذاب۔اپنے پر عذاب کی خبر پہلے ہوجانا تو معمولی بات ہے۔جنگ بدر سے پہلے ایک عورت مشرکہ کو خواب آیا تھا کہ ہمارے خیموں کے نیچے لہو بہہ رہا ہے۔آخر وہ بات پوری ہوگئی تو کیا اس سے وہ نبیہ سمجھ لی جاوے؟ ممکن ہے اَلرَّحِیْلُ شیطان نے کہا ہو کہ لو اب میں رخصت ہوتا ہوں جیسا کہ لکھا ہے کہ جب عذاب دیکھے گا تو شیطان کہے گا میں تم سے جدا ہوتا ہوں کیونکہ میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے۔دشمن سے نرم گفتاری کی تلقین فرمایا۔دشمن اگر سخت کلامی کرے تو اس کے مقابل سختی کرنے سے فائدہ نہیں کیونکہ سخت الفاظ سے برکت دور ہوجاتی ہے۔رحم کا مقتضا فرمایا۔ثناء اللہ کے واسطے بھی ہم نے توبہ کی شرط لگا دی ہے کیونکہ رحم کا مقتضا ہوتا ہے کہ توبہ سے انسان بچ جاوے۔۱ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۷ء (قبل ظہر) نشانات کا ظہور فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی قدرتیں اس کے نشانات کے ذریعہ سے ظاہر ہو رہی ہیں۔اگر یہ معجزات اور نشانات جو اس وقت ظاہر ہو رہے ہیں ایک شخص کے ایمان کے واسطے کافی نہیں تو پھر کسی نبی کے ماننے کے واسطے کوئی راہ دنیا میں باقی نہیں رہتی، اگر معجزات اور خوارق کسی کی سچائی کے واسطے کافی نہیں تو پھر کسی نبی کے ثبوت کے واسطے کوئی دلیل قائم نہیں رہتی۔