ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 151

یہ دیسی بوٹیاں بہت کار آمد ہوتی ہیں مگر افسوس ہے کہ لوگ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے۔حضرت مولوی صاحب نے عرض کیا کہ یہ بوٹیاں بہت مفید ہیں۔گندلوں کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ہندو فقیر لوگ بعض اسی کو جمع کر رکھتے ہیں اور پھر اسی پر گذارا کرتے ہیں۔یہ بہت مقوی ہے اور اس کے کھانے سے بواسیر نہیں ہوتی۔ایسا ہی کنڈیاری کے فائدے بیان کئے جو پاس ہی تھی۔حضرت نے فرمایا کہ ہمارے ملک کے لوگ اکثر ان کے فوائد سے بے خبر ہیں اور اس طرح توجہ نہیں کرتے کہ ان کے ملک میں کیسی عمدہ دوائیں موجود ہیںجو کہ دیسی ہونے کے سبب ان کے مزاج کے موافق ہیں۔۱ بلا تاریخ غیر کفو میں نکاح ایک دوست کا سوال پیش ہوا کہ ایک احمدی اپنی ایک لڑکی غیر کفو کے ایک احمدی کے ہاں دینا چاہتا ہے حالانکہ اپنی کفو میں رشتہ موجود ہے اس کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے۔فرمایا کہ اگر حسب مراد رشتہ ملے تو اپنی کفو میں کرنا بہ نسبت غیر کفو کے بہتر ہے لیکن یہ اَمر ایسا نہیں کہ بطور فرض کے ہو۔ہر ایک شخص ایسے معاملات میں اپنی مصلحت اور اپنی اولاد کی بہتری کو خوب سمجھ سکتا ہے اگر کفو میں وہ کسی کو اس لائق نہیں دیکھتا تو دوسری جگہ دینے میں حرج نہیں اور ایسے شخص کو مجبور کرنا کہ وہ بہرحال اپنی کفو میں اپنی لڑکی دیوے۔جائز نہیں ہے۔جوتا پہن کر نماز ذکر تھا کہ امیر کابل اجمیر کی خانقاہ میں بوٹ پہنے ہوئے چلا گیا تھا اور ہر جگہ بوٹ پہنے ہوئے نماز پڑھی اور اس بات کو خانقاہ کے کارندوں نے بُرا منایا۔حضرت نے فرمایا کہ اس معاملہ میں امیر حق پر تھا جوتی پہنے ہوئے نماز پڑھنا شرعاً جائز ہے۔۲