ملفوظات (جلد 9) — Page 149
رکھنے سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ ہماری تعلیم پر عمل نہ کیا جاوے۔سب سے اوّل حقوق اللہ کو ادا کرو۔اپنے نفس کو تمام جذبات سے پاک رکھو۔اس کے بعد حقوقِ عباد کو ادا کرو اور اعمال صالحہ کو پورا کرو۔خدا تعالیٰ پر سچا ایمان لاؤ اور تضرّع کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور میں دعا کرتے رہو اور کوئی دن ایسا نہ ہو جس دن تم نے خدا کے حضور رو کر دعا نہ کی ہو۔اس کے بعد اسباب ظاہری کی رعایت رکھو۔جس مکان میں چوہے مَرنے شروع ہوں اس کو خالی کر دو۔اور جس محلہ میں طاعون ہو اس محلہ سے نکل جاؤ اور کسی کھلے میدان میں جا کر ڈیرا لگاؤ۔جو تم میں سے بتقدیر الٰہی طاعون میں مبتلا ہو جاوے اس کے ساتھ اور اس کے لواحقین کے ساتھ پوری ہمدردی کرو اور ہر طرح سے اس کی مدد کرو اور اس کے علاج معالجہ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھو۔لیکن یاد رہے کہ ہمدردی کے یہ معنے نہیں کہ اس کے زہریلے سانس یا کپڑوں سے متاثر ہو جاؤ۔بلکہ اس اثر سے بچو۔اسے کھلے مکان میں رکھو اور جو خدانخواستہ اس بیماری سے مَر جائے وہ شہید ہے۔اس کے واسطے ضرورت غسل کی نہیں اور نہ نیا کفن پہنانے کی ضرورت ہے۔اس کے وہی کپڑے رہنے دو اور ہوسکے تو ایک سفید چادر اس پر ڈال دو اور چونکہ مَرنے کے بعد میت کے جسم میں زہریلا اثر زیادہ ترقی پکڑتا ہے اس واسطے سب لوگ اس کے ارد گرد جمع نہ ہوں۔حسب ضرورت دو تین آدمی اس کی چارپائی کو اٹھائیں اور باقی سب دور کھڑے ہو کر مثلاً ایک سو گز کے فاصلہ پر جنازہ پڑھیں۔جنازہ ایک دعا ہے اور اس کے واسطے ضروری نہیں کہ انسان میت کے سر پر کھڑا ہو۔جہاں قبرستان دور ہو مثلاً لاہور میں سامان ہو سکے تو کسی گاڑی یا چھکڑے پر میت کو لاد کر لے جاویں اور میت پر کسی قسم کی جزع فزع نہ کی جاوے۔خدا کے فعل پر اعتراض کرنا گناہ ہے۔اس بات کا خوف نہ کرو کہ ایسا کرنے سے لوگ تمہیں بُرا کہیں گے وہ پہلے کب تمہیں اچھا کہتے ہیں۔یہ سب باتیں شریعت کے مطابق ہیں اور تم دیکھ لو گے کہ آخر کار وہ لوگ جو تم پر ہنسی کریں گے خود بھی ان باتوں میں تمہاری پیروی کریں گے۔مکرراً یہ بہت تاکید ہے کہ جو مکان تنگ اور تاریک ہو اور ہوا اور روشنی خوب طور پر نہ آسکے اس