ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 135

رہا تھا۔آپ نے فرمایا کہ ہمیشہ بارشوں یا آندھیاں یا اور طوفانوں میں خدا تعالیٰ سے دعا مانگنی چاہیے کہ وہ ہمارے لیے اس عذاب میں کوئی بہتری کی ہی صورت پیدا کرے اور ہر ایک شر سے محفوظ رکھے جو اس سے پیدا ہوتا ہے۔اسی طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے وقتوں میں دعا مانگا کرتے تھے اور جب بارش یا آندھی آتی تھی تو گھبرائے سے معلوم ہوتے تھے اور کبھی اندر جاتے تھے اور کبھی باہر جاتے تھے کہ کہیں قیامت تو نہیں آگئی۔گو قیامت کی بہت سی نشانیاں ان کو بتائی گئی تھیں اور ابھی مسیح کی آمد کا بھی انتظار تھا مگر پھر بھی وہ خیال کرتے تھے کہ خدا بڑا بے نیاز ہے۔اس لیے سب کو چاہیے کہ اس کی بے نیازی سے ڈرتے رہیں اور ہمیشہ ایسے موقعوں پر خصوصیت سے دعا میں لگے رہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مَہد میں کلام فرمایا کہ حضرت عیسٰیؑ کی نسبت لکھاکہ وہ مہد میں بولنے لگے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ پیدا ہوتے ہی یا دو چار مہینہ کے بولنے لگے بلکہ اس سے مطلب ہے کہ جب وہ دو چار برس کے ہوئے کیونکہ یہی وقت تو بچوں کا پنگھوڑوں میں کھیلنے کا ہوتا ہے اور ایسے بچے کے لیے باتیں کرنا کوئی تعجب انگیز اَمر نہیں۔ہماری لڑکی امۃ الحفیظ بھی بڑی باتیں کرتی ہے۔۱ ۱۴؍مارچ ۱۹۰۷ء دل کی استقامت کے لیے استغفار کی ضرورت امرتسر سے برادر احمد حسین صاحب کاخط حضرت کی خدمت میں آیا جس میں دل کے خوف کا علاج حضرت سے پوچھا ہوا تھا اور لکھا تھا کہ سنا گیا ہے کہ حضور نے فرمایا ہے کہ پچیس دن سے پہلے سب لوگ یہاں چلے آئیں اور ڈوئی کے نشان پر مبارکباد تھی۔اس کے جواب میں حضور نے تحریر فرمایا۔’’دل کی استقامت کے لیے بہت استغفار پڑھتے رہیں۔‘‘