ملفوظات (جلد 9) — Page 134
شفا محض اللہ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے فرمایاکہ دیکھو! پچھلے دنوں میں مبارک احمد کو خسرہ نکلا تھا اس کو اس قدر کھجلی ہوتی تھی کہ وہ پلنگ پر کھڑا ہوجاتا تھا اور بدن کی بوٹیاں توڑتا تھا۔جب کسی بات سے فائدہ نہ ہوا تو میں نے سوچا کہ اب دعا کرنی چاہیے۔میں نے دعا کی اور دعا سے ابھی فارغ ہی ہوا تھا کہ میںنے دیکھا کہ کچھ چھوٹے چھوٹے چوہوں جیسے جانور مبارک احمد کو کاٹ رہے ہیں۔ایک شخص نے کہا کہ ان کو چادر میں باندھ کر باہر پھینک دو۔چنانچہ ایسا کیا گیا۔جب میں نے بیداری میں دیکھا تو مبارک احمد کو بالکل آرام ہوگیا تھا۔اسی طرح دستِ شفا جو مشہور ہوتے ہیں اس میں کیا ہوتا ہے وہی خدا کا فضل اور کچھ نہیں۔قبولیت ِدعا کا ایک طریق فرمایا کہ دعا میں بعض دفعہ قبولیت نہیں پائی جاتی تو ایسے وقت اس طرح سے بھی دعا قبول ہوجاتی ہے کہ ایک شخص بزرگ سے دعا منگوائیں اور خدا سے دعا مانگیں کہ وہ اس مرد بزرگ کی دعاؤں کو سنے۔اور بارہا دیکھا گیا ہے کہ اس طرح دعا قبول ہوجاتی ہے۔ہمارے ساتھ بھی بعض دفعہ ایسا واقعہ ہوا ہے اور پچھلے بزرگوں میں بھی دیکھا جاتا ہے۔جیسا کہ باوا غلام فریدؒ ایک دفعہ بیمار ہوئے اور دعا کی مگر کچھ بھی فائدہ نظر نہ آیا۔تب آپ نے اپنے ایک شاگرد کو جو نہایت ہی نیک مرد اور پارسا تھے (شاید شیخ نظام الدینؒ یا خواجہ قطب الدینؒ) دعا کے لیے فرمایا۔انہوں نے بہت دعا کی اور مگر پھر بھی کچھ اثر نہ پایا گیا۔یہ دیکھ کر انہوں نے ایک رات بہت دعا مانگی کہ اے میرے خدا! اس شاگرد کو وہ درجہ عطا فرما کہ اس کی دعائیں قبولیت کا درجہ پائیں۔اور صبح کے وقت ان کو کہا کہ آج ہم نے تمہارے لیے یہ دعا مانگی ہے۔یہ سن کر شاگرد کے دل میں بہت ہی رقت پیدا ہوئی اور اس نے اپنے دل میں کہا کہ جب انہوں میرے لیے ایسی دعا کی ہے تو آؤ پہلے انہیں ہی شروع کرو اور انہوں نے اس قدر زور شور سے دعا مانگی کہ باوا غلام فریدؒ کو شفا ہوگئی۔آفات کے وقت دعا کی ضرورت بارش سخت زور سے ہو رہی تھی اور کوئی وقت ایسا نہ ہوتا تھا کہ بادل پھٹے، مکانوں کے گرنے کا سخت اندیشہ ہو