ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 133

کسی اور نے کہا کہ حدیث میں بھی حرمت آئی ہے۔فرمایاکہ میں ایسی حدیثوں کو ٹھیک نہیں جانتا اور ایسی حدیثوں سے اسلام پر اعتراض ہوتا ہے کیونکہ خدا کے بتائے ہوئے نام عبد اللہ ، عبدالرحیم اور عبد الرحمٰن جو ہیںان پر بھی بات لگ سکتی ہے۔کیونکہ جب ایک انسان کہتا ہے کہ عبدالرحمٰن اندر نہیںتو اس کا یہ مطلب تو نہیں ہو سکتا کہ عبد الشیطان اندر ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ شخص جس کا نام نیک فال کے طور پر رکھا جاتا ہے تا وہ شخص بھی اس نام کے مطابق ہو۔بہادر شاہ ظفر سے انگریزوں کا سلوک ذکر ہو اکہ خاندانِ مغلیہ کے آخری بادشاہ کے وقت جو کچھ انگریزوں نے سلوک کیا ہے اس پر ایک اخبار نے بہت سا شور مچایا ہے اور اس کو بُرا منایا ہے۔فرمایا۔یہ بات نہیں۔خدا کسی قوم پر یا کسی خاص شخص پر ظلم نہیں کرتا۔جب انسان خود کوئی گناہ کرتا ہے تو اس وقت اس کی تادیب کے لیے خدا تعالیٰ اس پر مصیبتیں نازل فرماتا ہے۔بہادر شاہ سے اور اس کے چند پہلے بزرگوں سے چونکہ بہت کچھ خطائیں سرزد ہوئیں۔خدا تعالیٰ نے ان کو اس بات کے لائق نہ دیکھا کہ وہ حکومت کرسکیں۔تب انگریزوں کو ان پر مسلط کر دیا۔اگر وہ ایسے کام نہ کرتے تو خدا تعالیٰ بھی ایسا نہ کرتا۔بلکہ میرے خیال میں خدا تعالیٰ نے بہادر شاہ پر بہت بڑا احسان کیا کیونکہ اس طرح تکلیفیں برداشت کر کے اس کے گناہ معاف ہوگئے اور جو سلوک انگریزوں نے کیا وہ تو فاتح قومیں کیا ہی کرتی ہیں۔اگر بہادر شاہ فتح یاب ہوجاتا تو کیا وہ ایسا نہ کرتا؟ معالج کےلیے ضروری صفات ایک صاحب گھر میں آئے۔طب کا ذکر شروع ہوا۔فرمایا کہ طبیب میں علاوہ علم کے جو اس کے پیشہ کے متعلق ہے ایک صفت نیکی اور تقویٰ بھی ہونی چاہیے ورنہ اس کے بغیر کچھ کام نہیں چلتا۔ہمارے پچھلے لوگوں میں اس کا خیال تھا اور لکھتے ہیں کہ جب نبض پر ہاتھ رکھے تو یہ بھی کہے سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا(البقرۃ:۳۳) یعنی اے خدا وند بزرگ! ہمیں کچھ علم نہیں مگر وہ جو تو نے سکھایا۔