ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 130

بات پیش کی گئی ہے جو قطعاً لاجواب ہے۔آریوں کے واسطے اوّل تو اسی کتاب کا مضمون ہے کہ خود آریہ ہمارے نشانات کے پورا ہونے کے گواہ ہیں جس سے وہ کبھی انکار نہیں کر سکتے۔پھر ان کا مسئلہ نیوگ اندر ہی اندر ان کے دلوںکو ملزم اور خوار کر رہا ہے۔پھران کا یہ مذہب کہ خدا کسی کا خالق نہیں وغیرہ ایسی باتیں ظاہر ہوئی ہیں کہ کوئی آریہ جواب نہیں دے سکتا۔سکھوں کی ہدایت کے واسطے خدا نے چولا صاحب ظاہر کر دیا ہے جس پر صاف لکھا ہے کہ اسلام کے سوائے کوئی مذہب مقبول نہیں اور اس سے ثابت ہے کہ باوا نانک کا مذہب کیا تھا۔عیسائیوں کے خدا کی خود قبر ہی نکل آئی ہے اور ہمارے مخالف مسلمانوں پر بھی حجّت قائم ہے کیونکہ قرآن شریف حضرت عیسٰیؑ کی وفات کا قائل ہے اور آنحضرتؐنے اس کو مُردوںمیں دیکھا ہے۔۱ مسیح موعودؑ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام فرمایا۔یہ عجب بات ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کو سلام کہا ہے اور وصیت کی ہے کہ مسیح موعود کو میرا سلام کہہ دینا۔اب اگر آنے والا مسیح وہی ہے جو آسمان پر نبیوںکے درمیان موجود ہے تو وہ تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہو کر دنیا میں آئے گا۔چاہیے تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سلام لے کر مسلمانوں کے پاس آتا نہ یہ کہ جب وہ یہاں آوے تو اس جہان کے لوگ اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچائیں۔یہ تو وہی مثل ہوئی کہ ’’گھر سے میں آؤں اور خبریں تم سناؤ‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سلام پیغام صاف بتلاتا ہے کہ وہ امت میں سے پیدا ہونے والا ایک شخص ہے جس کی ملاقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں ہوئی۔۲