ملفوظات (جلد 9) — Page 125
سے مشورہ لیا تھا اور ہم نے یہی مشورہ دیا تھا کہ وہاں کے لڑکوں کی صحبت سے بچتے رہیں اور کسی بدی میں شامل نہ ہوں تو ہرج نہیں کہ وہاں جائیں۔انسان ضرورتاً پاخانہ میں بھی جاتا ہے مگر اپنے آپ کو نجاست سے بچائے رکھتا ہے۔‘‘ عاجز۲ کو مخاطب کر کے حضور نے فرمایا کہ ان باتوں کو عام اطلاع کے واسطے اخبار بدر میں شائع کر دیں۔۳ وفاتِ مسیح علیہ السلام ہمارے مخالفین کے اس مذہب کا ذکر تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے ہیں اور پھر قیامت سے پہلے دنیا میں آئیں گے اور چالیس سال تک اس زمین پر رہیں گے اور عیسائیوں کی خوب خبر لیں گے اور ان کو بتائیں گے کہ تمہارا دین باطل ہے اور کسر صلیب کریں گے اور پھر اس زمین پر فوت ہو جائیں گے۔حضرت نے فرمایا کہ اس عقیدہ کو قرآن شریف کی اس آیت کے آگے پیش کرنا چاہیے کہ وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَ اُمِّيَ اِلٰهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِيْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِيْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ(المائدۃ:۱۱۷،۱۱۸) یعنی قیامت کے روز اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو کہیں گے کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں کو یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے مانو اور اللہ کو چھوڑ دو؟ تو حضرت عیسیٰ جواب دیں گے کہ یا اللہ! تو پاک ہے مجھے کب لائق تھا کہ میں ایسا کلمہ بولتا جو حق نہیں ہے۔اگر میں کہتا تو تجھے معلوم ہوتا۔تو جانتا ہے جو کچھ کہ میرے نفس میں ہے اور میں نہیں جانتا کہ تیرے نفس میں کیا ہے تو علّام الغیوب ہے۔میں نے تو انہیں سوائے اس کے کچھ نہیں کہا جو تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا ربّ ہے اور جب تک کہ میں ان میں رہا۔میں