ملفوظات (جلد 9) — Page 124
میں شامل نہ ہوں اور اپنے استادوں سے معافی مانگ کر فوراً کالج میں داخل ہو جاویں۔چنانچہ انہوں نے میرے حکم کی فرمانبرداری کی اور اپنے کالج میں داخل ہو کر ایک ایسی نیک مثال قائم کی کہ دوسرے طلباء بھی فوراً داخل ہوگئے۔عزیز احمد کو اس واقعہ کی خبر ہوگی کیونکہ اخبار میں چھپ چکا تھا۔اور اگر خبر نہ ہوتی تو اس کے واسطے ضروری تھا کہ اوّل مجھ سے مشورہ کرتا یا اپنے ساتھیوں کے مشورہ پر چلتا۔اس کاعلی گڑھ میں جانا بھی اس کے باپ کے مشورہ اور حکم سے تھا نہ کہ ہمارا اس میں کوئی حکم تھا۔ایسا ہی مخالفت استاد ان میں شمولیت ہمارے کسی تعلق کی وجہ سے نہیں اور اسی وجہ سے اس کو خارج از بیعت کیا جاتا ہے جب تک کہ وہ اپنے فعل سے توبہ کر کے اپنے استادوں سے معافی نہ مانگے۔۱ ہاں دوسرے طلباء مولوی غلام محمد صاحب وغیرہ نے علی گڑھ جانے سے پہلے ہم ۱مرزا عزیز احمد صاحب کی تجدید بیعت مرزا عزیز احمد صاحب نے میانوالی سے جہاں آپ بتقریب موسمی رخصت مقیم ہیں مفصلہ ذیل خط حضرت کی خدمت میں بھیجا تھا۔بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم بخدمت امام زمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ فدوی اپنے گذشتہ قصوروں کی معافی طلب کرتا ہے اور التجا کرتا ہے کہ اس خاکسار کی گذشتہ کوتاہیوں کو معاف کر کے زمرۂ تابعین میں شامل کیا جائے۔نیز اس عاجز کے حق میں دعا فرماویں کہ آئندہ اللہ تعالیٰ ثابت قدم رکھے۔حضور کا عاجز’’عزیز احمد‘‘ اس کے جواب میں حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہم وہ قصور معاف کرتے ہیں۔آئندہ اب تم پرہیز گار اور سچے مسلمانوں کی طرح زندگی بسرکرو اور بُری صحبتوں سے پرہیز کرو۔بُری صحبتوں کا انجام آخر بُرا ہی ہوا کرتا ہے۔(بدر جلد ۶ نمبر ۴۲ مورخہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۷ ) ۲یعنی ایڈیٹر صاحب بدر۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب(مرتّب)