ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 122

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۲ جلد نهم تمہارے ساتھ کیا جائے گا۔ اس بات کو سن کر کافر کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ تمام کفر اس کے دل سے خارج ہو گیا اور اس نے سوچا کہ اس سے بڑھ کر اور کون سا دین دنیا میں اچھا ہو سکتا ہے جس کی تعلیم کے اثر سے انسان ایسا پاک نفس بن جاتا ہے۔ پس اس نے اسی وقت تو بہ کی اور مسلمان ہو گیا۔ غرض انسانوں کو چاہیے کہ دنیوی کدورتوں کے سبب باہم رنجش پیدا نہ کریں اور پھر یہ دن تو و با اور زلازل اور قہر الہی کے دن ہیں ۔ ان میں خدا تعالیٰ کے خوف سے لرزاں رہنا چاہیے۔ ایک شخص نے ذکر کیا کہ بعض مولوی قسما قسم کے افترا کر کے لوگوں کو مولویوں کے پیروکار بہکاتے ہیں ۔ حضرت نے فرمایا۔ ان کے ہاتھ سوائے افترا پردازی کے اور کیا ہے؟ لیکن جو لوگ ان کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں وہ خود کمزور اور ضعیف ہیں اور دنیا داری میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ دین کی ان کو ہرگز کوئی خبر ہی نہیں۔ وہ خود سوچ فکر سے کام نہیں لیتے ورنہ ایسے شریر لوگوں کے شر سے محفوظ رہتے جو ہماری باتوں کو تراش خراش کر افترا کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ الوحی کتاب حقیقۃ الوحی کے لیے قسم فرمایا۔ کتاب حقیقہ اور میں ہم نے تمام قسم کی باتوں کو مختصر طور پر جمع کر دیا ہے اور اس میں قسم دی ہے کہ لوگ کم از کم اول سے آخر تک اس کو پڑھ لیں ۔ دوسرے کی قسم کا نہ مان بھی تقوی کے برخلاف ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوسرے کی قسم پوری ہونے دی تھی اور حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی دوسرے آدمی کی قسم کو پورا کیا تھا۔ غرض ہم ایک نیک کام کے واسطے قسم دیتے ہیں کہ وہ بلا سوچے سمجھے گالیاں نہ دیں اور مخالفت نہ کریں کم از کم ہمارے دلائل کو ایک دفعہ بغور مطالعہ کر لیں خواہ تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھیں ۔ پھر ان کو معلوم ہو جاوے گا کہ حق کس بات میں ہے۔ ( بوقت ظهر ) طلباء کی سٹرائیک علی گڑھ کالج کے طالبعلم مولوی غلام حمد صاحب نے وہاں کے طلباء کی ٹرانیک اور اپنے استادوں کی مخالفت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام