ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 120

ہیں۔باعتبار بہشت میں داخل ہوجانے کے تو سب مومن برابر ہی ہو جائیں گے۔۳ ۱۰؍مارچ ۱۹۰۷ء (بوقت دس بجے دن) دنیوی معاملات کے سبب کسی سے بغض نہ رکھیں ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب حکیم محمد حسین صاحب قریشی، ڈاکٹر حکیم نور محمد صاحب، حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسیٰ، بابو غلام محمد صاحب لاہور سے آکر حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت اقدس ملاقات کے واسطے قریب دس بجے صبح کے مسجد مبارک میں تشریف لائے اور قریب دو گھنٹہ کے تشریف فرما رہے۔چند آدمیوں نے بیعت کی اور مختلف مسائل پر گفتگو ہوتی رہی۔دو ایک دوستوں کے درمیان کسی دنیوی اَمر پر اختلاف اور باہمی رنج کا ذکر تھا۔اس پر حضرت نے فرمایا کہ دیکھو! آجکل موسم کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے اور ایک غیر معمولی تغیر زمانے کی حالت میں نظر آتا ہے آسمان ہر وقت غبار ناک رہتا ہے گویا کہ وہ بھی اداس ہو رہا ہے۔چاہیے کہ آپس میں جلد صفائی کر لیں۔معلوم نہیں کہ کس کی موت آجائے۔میں تو یہ بھی سننا نہیں چاہتا کہ اختلاف کی کیا باتیں ہیں۔معلوم نہیں کہ کس کی زندگی ہے اور کون اس سال میں مَرجائے گا۔جب تک کہ سینہ صاف نہ ہو دعا قبول نہیں ہوتی۔اگر کسی دنیوی معاملہ میں ایک شخص کے ساتھ بھی تیرے سینے میں بغض ہے تو تیری دعا قبول نہیں ہو سکتی۔اس بات کو اچھی طرح سے یاد رکھنا چاہیے اور دنیوی معاملہ کے سبب کبھی کسی کے ساتھ بغض نہیں رکھنا چاہیے۔اور دنیا اور اس کا اسباب کیا ہستی رکھتا ہے کہ اس کی خاطر تم کسی سے عداوت رکھو۔شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے کیا عمدہ واقعہ بیان کیا ہے کہ دو شخص آپس میں سخت عداوت رکھتے تھے۔ایسا کہ وہ اس بات کو بھی ناگوار رکھتے تھے کہ ہر دو ایک آسمان کے نیچے ہیں۔ان میں سے ایک قضائے کار فوت ہوگیا۔اس سے دوسرے کو بہت خوشی ہوئی۔ایک روز اس کی قبر پر گیا اور اس کو اکھاڑ ڈالا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کا نازک جسم خاک آلود ہے اور کیڑے اس کو کھا رہے ہیں۔ایسی