ملفوظات (جلد 9) — Page 109
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۹ جلد نهم ۲۶ فروری ۱۹۰۷ء (بوقت ظهر ) حضرت اقدس نے جو رسالہ ” قادیان کے آریہ اور ہم لکھا ہے وہ چھپ کر شائع ہو گیا ہے۔ بعض مخالفین کو بھی ارسال کرنے کے لیے فرمایا۔ فرمایا۔ قلوب کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ بعض کو نثر اور بعض کو نظم سے اثر ہوتا ہے۔ ایک شخص کو صرف ہماری براہین احمدیہ کی نظم سے اثر ہوا۔ اور وہ ہمارے پاس پہنچا۔ پھر بہار آئی تو آئے خلیج کے آنے کے دن سال گذشتہ کا الہام ہے۔ اس کے متعلق ذکر ہوا کہ ہر طرف سے خبریں آرہی ہیں کہ اس سال غیر معمولی سردی پڑی ہے اور یہ پیشگوئی پوری ہوگئی ۔ ( بوقت عصر ) آریوں کے گندے اعتقادات کا ذکر ہوا۔ فرمایا۔ آریوں کا اعتقاد ہے کہ خدا نے تو کچھ پیدا ہی نہیں کیا اور اولا دحرام طور پر حاصل کرنے کے شائق ہیں ۔ یکم مارچ ۱۹۰۷ ء طاعون زدہ گاؤں سے باہر کھلی جگہ ڈیرہ لگانا چاہیے ایک دوست نے ذکر کیا کہ ہمارے ں میں طاعو ون۔ فرمایا کہ گاؤں سے فوراً باہر نکل جاؤ اور کھلی ہوا میں اپنا ڈیرہ لگاؤ۔ مت خیال کرو کہ طاعون زدہ جگہ سے باہر نکلنا انگریزوں کا خیال ہے اور اس واسطے اس کی طرف توجہ کرنا فرض نہیں ۔ یہ بات نہیں طاعون والی جگہ سے باہر نکلنا یہ فیصلہ شرعی ہے۔ گندی ہوا سے اپنے آپ کو بچاؤ ۔ جان بوجھ کر ہلاکت الحکم جلدا انمبر ۹ مورخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۷ صفحه ۱۱