ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 108

الہام اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ جب تک خلقت رجوع الی الحق نہ کرے گی یہ بیماری نہ جائے گی۔دیکھو! اس سال سب کی رائے یہ بندھی تھی کہ طاعون سے یہ ملک بہت کچھ پاک ہوگیا ہے اور اب عنقریب بالکل صاف ہوجائے گا مگر اس سال پچھلے سالوں سے بڑھ کر حملہ ہوا ہے۔ایسا حملہ کہ کئی گھرانے تباہ ہوگئے ہیں۔بعض گاؤں کے گاؤں خالی ہوگئے۔وہ جو قرآن مجید میں ہے وَ اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا (بنی اسـرآءیل:۵۹) سب کچھ پورا ہو رہا ہے۔قادیان کے متعلق مجھے الہام ہوا تھا لَوْ لَا الْاِکْرَامُ لَھَلَکَ الْمُقَامُ یعنی یہ گاؤں بھی ہلاکت کا مستوجب تھا مگر اکرام کے سبب محفوظ رکھ لیا گیا جس کے متعلق اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ ہے۔اٰوٰی کے معنے تمام لغت کی کتابوں میں یہی لکھے ہیں کہ کسی مصیبت کے بعد پناہ دینا۔قرآن مجید میں بھی انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاٰوٰى (الضُّحٰی:۷) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے قادیان میں کچھ عذاب طاعون آنا تھا اور پھر اس کے بعد حفاظت ہوگی۔شرع میں حیلہ عاجز اکمل نے آیت خُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ (صٓ:۴۵) کی نسبت پوچھا کہ اگر اس کے وہ معنی کئے جاویں جو عام مفسروں نے کئے ہیں تو شرع میں حیلوں کا باب کھل جائے گا۔آپ نے فرمایا۔چونکہ حضرت ایوبؑکی بیوی بڑی نیک، خدمت گذار تھی اور آپ بھی متقی صابر تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے تخفیف کردی اور ایسی تدبیر سمجھادی جس سے قسم بھی پوری ہوجائے اور ضرر بھی نہ پہنچے۔اگر کوئی حیلہ اللہ تعالیٰ سمجھائے تو وہ شرع میں جائز ہے کیونکہ وہ بھی اسی راہ سے آیا جس سے شرع آئی۔اس لیے کوئی ہرج کی بات نہیں۔۱