ملفوظات (جلد 9) — Page 100
تحریری جواب دیا جاوے اور زبانی مباحثات مظنّہءِ فساد ہوتے ہیں۔قصیدہ اعجازیہ قاضی ظفر الدین متوفّی کے قصیدہ کا ذکر ہوا جو اس نے حضرت کے قصیدہ کے مقابلہ میں بنایا تھا اور اس کو خدا نے اتنی فرصت نہیں دی کہ اس کو شائع کر سکے۔اب اس کو ثناء اللہ چھاپتا ہے۔حضرت نے فرمایا۔قصیدہ بنانے والا تو اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا اورجہان سے رخصت ہوگیااور وہ اس کو اپنی زندگی میں بھی شائع نہ کر سکا۔ثناء اللہ کو تو اتنی بھی لیاقت نہیں کہ اس کی تصحیح کر سکے۔۱ ۱۷؍فروری ۱۹۰۷ء خدا تعالیٰ کا غضب اور آفات سماوی حضرت حکیم الامت نے کسی شخص کا مقولہ بیان فرمایا کہ وہ کہتا ہے کہ زلزلے بیماریاں آیا ہی کرتی ہیں۔ان کو خدا کے غضب سے کیا تعلق ہے؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ایسے لوگوں کو خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں ہوتا۔قرآن کریم کے منکر ہیں۔دہریے ہیں۔کیا موسیٰ، نوح علیہما السلام کے وقت میں یونہی بیماریاں آتی تھیں یا کہ خدا تعالیٰ نے ان کا کوئی سبب بیان فرمایا ہے؟ فرمایا۔اس دفعہ طاعون خطرناک شکل پکڑتی جاتی ہے۔ہمیں تو اس سے خوشی ہوتی ہے کیونکہ اس سے خدا تعالیٰ کی ہستی اور دنیا کی ناپائیداری اہلِ دنیا پر ثابت ہو رہی ہے۔خدا را بخدا تواند شناخت۔سوفسطائی جو حقیقت اشیاء کے منکر ہیں ان کا جواب یہی لکھا ہے کہ ان کو جب آگ میں ڈالا