ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 65

قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میرا عقیدہ ہے میں نہایت افسوس اور درد دل سے یہ بات کہتا ہوں کہ قوم نے میری مخالفت میں نہ صرف جلدی کی بلکہ بہت بے دردی بھی کی۔صرف ایک مسئلہ وفاتِ مسیح کا اختلاف تھا جس کو میں قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت۔صحابہؓ کے اجماع اور عقلی دلائل اور کتب سابقہ سے ثابت کرتا تھا اور کرتا ہوں۔اور حنفی مذہب کے موافق نص، حدیث، قیاس، دلائل شرعیہ میرے ساتھ تھیں مگر ان لوگوں نے قبل اس کے کہ وہ پورے طور پر مجھ سے پوچھ لیتے اور میرے دلائل کو سُن لیتے اِس مسئلہ کی مخالفت میں یہاں تک غلو کیا کہ مجھے کافر ٹھہرایا گیا۔اور اس کے ساتھ اور بھی جو چاہا کہا اور میرے ذمّہ لگایا۔دیانت نکو کاری اور تقویٰ کا تقاضا یہ تھا کہ پہلے مجھ سے پوچھ لیتے۔اگر میں قال اللہ اور قال الرسول سے تجاوز کرتا تو پھر بے شک انہیں اختیار اورحق تھا کہ وہ مجھے جو چاہتے کہتے دجّال کذّاب وغیرہ۔لیکن جبکہ میںابتدا سے بیان کرتا آیا ہوں کہ میں قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے ذرا اِدھر اُدھر ہونا بے ایمانی سمجھتا ہوں۔میرا عقیدہ یہی ہے کہ جو اس کو ذرا بھی چھوڑے گا وہ جہنمی ہے۔پھر اس عقیدہ کو نہ صرف تقریروں میں بلکہ ساٹھ کے قریب اپنی تصنیفات میں بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے اور دن رات مجھے یہی فکر اور خیال رہتا ہے۔پھر اگر یہ مخالف خدا سے ڈرتے تو کیا ان کا فرض نہ تھاجو مجھ سے پوچھتے کہ فلاں بات خارج از اسلام کی ہے اس کی کیا وجہ ہے یا اس کا تم کیا جواب دیتے ہو؟ مگر نہیں۔اِس کی ذرا بھی پروا نہیںکی۔سُنا اور کافر کہہ دیا۔میں نہایت تعجب سے ان کی اس حرکت کو دیکھتا ہوں۔کیونکہ اوّل تو حیات وفات مسیح کا مسئلہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو اسلام میں داخل ہونے کے لئے شرط ہو۔یہاں بھی ہندو یا عیسائی مسلمان ہوتے ہیں مگر بتاؤ کہ کیا اُس سے یہ اقرار بھی لیتے ہو؟ بجز اس کے کہ اٰمَنْتُ بِاللہِ وَمَلَائِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَ الْقَدْرِ خَیْـرِہٖ وَشَـرِّہٖ مِنَ اللہِ تَعَالٰی وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ۔جبکہ یہ مسئلہ اسلام کی جزو نہیں پھر مجھ پر وفات مسیح کے اعلان سے اِس قدر تشدّد کیوں کیا گیا کہ یہ کافر ہیں دجّال ہیں ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جاوے۔اِن کے مال لُوٹ