ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 64

تعداد میں پوری ہو چکی ہیں۔یونہی منہ سے انکار کر دینا تقویٰ کے خلاف ہے۔دیانت اور خدا ترسی سے ان پیشگوئیوں کو دیکھنا چاہیے جو پوری ہو چکی ہیں۔مگر جلد بازوں کا منہ کون بند کرے؟ اس قسم کے امور مجھے ہی پیش نہیں آئے حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پیش آئے۔پھر اگر یہ امر مجھے بھی پیش آوے تو تعجب نہیں۔بلکہ ضرور تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ سنّت اللہ یہی تھی۔میں کہتا ہوں کہ مومن کے لئے تو ایک شہادت بھی کافی ہے۔اسی سے اس کا دل کانپ جاتا ہے۔مگر یہاں تو ایک نہیں صدہا نشان موجود ہیں بلکہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس قدر ہیں کہ میں انہیں گِن نہیں سکتا۔یہ شہادت تھوڑی نہیں کہ دلوں کو فتح کرلے گا۔مکذبوں کو موافق بنا لے گا۔اگر کوئی خدا کا خوف کرے اور دل میں دیانت اور دُور اندیشی سے سوچے تو اُسے بے اختیار ہوکر ماننا پڑے گا کہ یہ خدا کی طرف سے ہیں۔پھر یہ بھی ظاہر بات ہے کہ مخالف جب تک ردّ نہ کرے اور اس کی نظیر پیش نہ کرے خدا کی حجت غالب ہے۔اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ میں اسی خدا کا شکر کرتا ہوں جس نے مجھے بھیجا ہے اور باوجود اس شر اور طوفان کے جو مجھ پر اٹھا اور جس کی جڑ اور ابتدا اسی شہر سے اٹھی اور پھر دلّی تک پہنچی مگر اس نے تمام طوفانوں اور ابتلاؤں میں مجھے صحیح سالم اور کامیاب نکالا۔اور مجھے ایسی حالت میں اس شہر میں لایا کہ تین لاکھ سے زیادہ زن ومرد میرے مبایعین میں داخل ہیں اور کوئی مہینا نہیں گزرتا جس میں دو ہزار، چار ہزار، بعض اوقات پانچ پانچ ہزار اس سلسلہ میں داخل نہ ہوتے ہوں۔پھر اس خدا نے ایسے وقت میں میری دستگیری کی کہ جب قوم ہی دشمن ہوگئی جب کسی شخص کی دشمن اس کی قوم ہی ہو جاوے تو وہ بڑا بے کس اور بڑا بے دست و پا ہوتا ہے۔کیونکہ قوم ہی تو دست و پا اور جوارح ہوتی ہے۔وہی اس کی مدد کرتی ہے۔دوسرے لوگ تو دشمن ہوتے ہی ہیں کہ ہمارے مذہب پر حملہ کرتا ہے لیکن جب اپنی قوم بھی دشمن ہو تو پھر بچ جانا اور کامیاب ہو جانا معمولی بات نہیں بلکہ یہ ایک زبردست نشان ہے۔