ملفوظات (جلد 8) — Page 55
یکم نومبر ۱۹۰۵ء (بمقام دہلی) نزولِ برکات کے مقامات کل حضرت صاحب کی طبیعت کچھ علیل تھی اس واسطے کل آپ قطب کے مزار پر نہ جا سکے اور آج تشریف لے گئے۔حضرت بختیار کاکی کے مزار مبارک پر آپ نے دعا کی اور دعا کو لمبا کیا۔واپس آتے ہوئے حضرت نے راستہ میں فرمایا کہ بعض مقامات نزولِ برکات کے ہوتے ہیں اور یہ بزرگ چونکہ اولیاء اللہ تھے اس واسطے ان کے مزار پر ہم گئے۔ان کے واسطے بھی ہم نے اللہ سے دعا کی اور اپنے واسطے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور دیگر بہت دعائیں کیں۔لیکن یہ دو چار بزرگوں کے مقامات تھے جو جلد ختم ہوگئے۔اور دہلی کے لوگ تو سخت دل ہیں۔یہی خیال تھا کہ واپس آتے ہوئے گاڑی میں بیٹھے ہوئے الہام ہوا دست تو دعائے تو ترحم ز خدا۱ ۴؍نومبر ۱۹۰۵ء (بمقام دہلی) آج کے لدھیانہ میں پہنچنے کے اخبار کی تحریر سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کل کی دہلی کی کیفیت مختصراً بیان کروں۔کل کی باتوں میں سے زیادہ تر قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک نوجوان معلوم نہیں طالب علم تھا یا مولوی صاحبان میں شامل تھا چند اور مسجد کے طلباء اور مولوی لوگوں کے ہمراہ حضرتؑکے پاس آیااور نہایت گستاخی کے ساتھ بہت ہی کج بحثی کی گفتگو شروع کی۔مسئلہ متعلق موعود مسیح اور الیاس کے موعود ہونے کی بابت تھا حضرت نے بار بار نہایت نرمی سے اس کو سمجھایا کہ جس کے آنے کے متعلق خدا نے وعدہ کیا کہ وہ آئے گا وہ موعود ہے مگر وہ بار بار یہی کہتا رہا کہ موعود کا لفظ دکھاؤ اور توریت میں الیاس کے متعلق موعود کا لفظ دکھاؤ بہت ہی سمجھایا گیا۔مگر وہ بار بار تکذیب کرتا گیا اور نہایت شوخی کے ساتھ انکار یکم نومبر ۱۹۰۵ء (بمقام دہلی) نزولِ برکات کے مقامات کل حضرت صاحب کی طبیعت کچھ علیل تھی اس واسطے کل آپ قطب کے مزار پر نہ جا سکے اور آج تشریف لے گئے۔حضرت بختیار کاکی کے مزار مبارک پر آپ نے دعا کی اور دعا کو لمبا کیا۔واپس آتے ہوئے حضرت نے راستہ میں فرمایا کہ بعض مقامات نزولِ برکات کے ہوتے ہیں اور یہ بزرگ چونکہ اولیاء اللہ تھے اس واسطے ان کے مزار پر ہم گئے۔ان کے واسطے بھی ہم نے اللہ سے دعا کی اور اپنے واسطے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور دیگر بہت دعائیں کیں۔لیکن یہ دو چار بزرگوں کے مقامات تھے جو جلد ختم ہوگئے۔اور دہلی کے لوگ تو سخت دل ہیں۔یہی خیال تھا کہ واپس آتے ہوئے گاڑی میں بیٹھے ہوئے الہام ہوا دست تو دعائے تو ترحم ز خدا۱ ۴؍نومبر ۱۹۰۵ء (بمقام دہلی) آج کے لدھیانہ میں پہنچنے کے اخبار کی تحریر سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کل کی دہلی کی کیفیت مختصراً بیان کروں۔کل کی باتوں میں سے زیادہ تر قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک نوجوان معلوم نہیں طالب علم تھا یا مولوی صاحبان میں شامل تھا چند اور مسجد کے طلباء اور مولوی لوگوں کے ہمراہ حضرتؑکے پاس آیااور نہایت گستاخی کے ساتھ بہت ہی کج بحثی کی گفتگو شروع کی۔مسئلہ متعلق موعود مسیح اور الیاس کے موعود ہونے کی بابت تھا حضرت نے بار بار نہایت نرمی سے اس کو سمجھایا کہ جس کے آنے کے متعلق خدا نے وعدہ کیا کہ وہ آئے گا وہ موعود ہے مگر وہ بار بار یہی کہتا رہا کہ موعود کا لفظ دکھاؤ اور توریت میں الیاس کے متعلق موعود کا لفظ دکھاؤ بہت ہی سمجھایا گیا۔مگر وہ بار بار تکذیب کرتا گیا اور نہایت شوخی کے ساتھ انکار یکم نومبر ۱۹۰۵ء (بمقام دہلی) نزولِ برکات کے مقامات کل حضرت صاحب کی طبیعت کچھ علیل تھی اس واسطے کل آپ قطب کے مزار پر نہ جا سکے اور آج تشریف لے گئے۔حضرت بختیار کاکی کے مزار مبارک پر آپ نے دعا کی اور دعا کو لمبا کیا۔واپس آتے ہوئے حضرت نے راستہ میں فرمایا کہ بعض مقامات نزولِ برکات کے ہوتے ہیں اور یہ بزرگ چونکہ اولیاء اللہ تھے اس واسطے ان کے مزار پر ہم گئے۔ان کے واسطے بھی ہم نے اللہ سے دعا کی اور اپنے واسطے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور دیگر بہت دعائیں کیں۔لیکن یہ دو چار بزرگوں کے مقامات تھے جو جلد ختم ہوگئے۔اور دہلی کے لوگ تو سخت دل ہیں۔یہی خیال تھا کہ واپس آتے ہوئے گاڑی میں بیٹھے ہوئے الہام ہوا دست تو دعائے تو ترحم ز خدا۱ ۴؍نومبر ۱۹۰۵ء (بمقام دہلی) آج کے لدھیانہ میں پہنچنے کے اخبار کی تحریر سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کل کی دہلی کی کیفیت مختصراً بیان کروں۔کل کی باتوں میں سے زیادہ تر قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک نوجوان معلوم نہیں طالب علم تھا یا مولوی صاحبان میں شامل تھا چند اور مسجد کے طلباء اور مولوی لوگوں کے ہمراہ حضرتؑکے پاس آیااور نہایت گستاخی کے ساتھ بہت ہی کج بحثی کی گفتگو شروع کی۔مسئلہ متعلق موعود مسیح اور الیاس کے موعود ہونے کی بابت تھا حضرت نے بار بار نہایت نرمی سے اس کو سمجھایا کہ جس کے آنے کے متعلق خدا نے وعدہ کیا کہ وہ آئے گا وہ موعود ہے مگر وہ بار بار یہی کہتا رہا کہ موعود کا لفظ دکھاؤ اور توریت میں الیاس کے متعلق موعود کا لفظ دکھاؤ بہت ہی سمجھایا گیا۔مگر وہ بار بار تکذیب کرتا گیا اور نہایت کرتا گیا۔اس کی زبان نہایت تیز چلتی تھی اور کوئی تقویٰ کی خوشبو اس میں نہ تھی۔آخر حضرت نے فرمایا کہ میں نے بہت سمجھایا ہے قرآن اور حدیث کو پیش کیا ہے۔گذشتہ ا نبیاء کے حالات کو پیش کیا بدر جلد ۱ نمبر ۳۴ مورخہ ۸؍نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۳