ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 54

میں ایک سو بیس برس بھی ہے اور ہزاروں برس کی عمر کسی جگہ نہیں لکھی۔(۸) جو صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہوا وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر دلیل قاطع ہے جو اس آیت کے رو سے اجماع تھا مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ(اٰلِ عـمران:۱۴۵) (۹) ما سوائے اس کے خدا تعالیٰ نے اپنی وحی قطعی صحیح سے بار بار میرے پر ظاہر کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ وفات پاگئے اور اپنے کھلے کھلے نشانوں سے میری سچائی ظاہر فرمائی ہے۔اسی طرح اور بہت سے دلائل ہیں مگر اسی قدر کافی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت قرآن شریف اور حدیث اور اجماع صحابہ سے ثابت ہے۔اور سورہ نور سے ثابت ہے کہ اس امت کے کل خلفاء اسی امت میں سے آئیں گے اور صحیح بخاری سے ثابت ہے کہ آنے والا عیسیٰ اسی امت میں سے ہوگا۔جیسا کہ لکھا ہے کہ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ بلکہ صحیح بخاری میں پہلے مسیح کا اور حلیہ لکھا ہے اور آنے والے عیسیٰ کا اور حلیہ لکھا ہے۔ماسوائے اس کے میرا آنا بے وقت نہیں۔صدی جس کے سر پر آنا تھا تئیس برس اس میں سے گذر گئے۔کسوف خسوف بھی رمضان میں ہوگیا، طاعون بھی پیدا ہوگئی، ایک نئی سواری یعنی ریل بھی پیدا ہوگئی اور خدا تعالیٰ نے دس ہزار سے زیادہ نشان میرے ہاتھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔اور ہر ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ اسلام کی زندگی حضرت عیسٰیؑ کی موت میں ہے۔اگر آج یہ امر عیسائیوں پر ثابت ہو کہ حضرت عیسٰیؑ فوت ہوگئے تو وہ سب کے سب عیسائی مذہب کو ترک کر دیں۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی مرزا غلام احمد عفی اللہ عنہ ۲۹؍اکتوبر۱۹۰۵ء۱ میں ایک سو بیس برس بھی ہے اور ہزاروں برس کی عمر کسی جگہ نہیں لکھی۔(۸) جو صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہوا وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر دلیل قاطع ہے جو اس آیت کے رو سے اجماع تھا مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ(اٰلِ عـمران:۱۴۵) (۹) ما سوائے اس کے خدا تعالیٰ نے اپنی وحی قطعی صحیح سے بار بار میرے پر ظاہر کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ وفات پاگئے اور اپنے کھلے کھلے نشانوں سے میری سچائی ظاہر فرمائی ہے۔اسی طرح اور بہت سے دلائل ہیں مگر اسی قدر کافی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت قرآن شریف اور حدیث اور اجماع صحابہ سے ثابت ہے۔اور سورہ نور سے ثابت ہے کہ اس امت کے کل خلفاء اسی امت میں سے آئیں گے اور صحیح بخاری سے ثابت ہے کہ آنے والا عیسیٰ اسی امت میں سے ہوگا۔جیسا کہ لکھا ہے کہ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ بلکہ صحیح بخاری میں پہلے مسیح کا اور حلیہ لکھا ہے اور آنے والے عیسیٰ کا اور حلیہ لکھا ہے۔ماسوائے اس کے میرا آنا بے وقت نہیں۔صدی جس کے سر پر آنا تھا تئیس برس اس میں سے گذر گئے۔کسوف خسوف بھی رمضان میں ہوگیا، طاعون بھی پیدا ہوگئی، ایک نئی سواری یعنی ریل بھی پیدا ہوگئی اور خدا تعالیٰ نے دس ہزار سے زیادہ نشان میرے ہاتھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔اور ہر ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ اسلام کی زندگی حضرت عیسٰیؑ کی موت میں ہے۔اگر آج یہ امر عیسائیوں پر ثابت ہو کہ حضرت عیسٰیؑ فوت ہوگئے تو وہ سب کے سب عیسائی مذہب کو ترک کر دیں۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی مرزا غلام احمد عفی اللہ عنہ ۲۹؍اکتوبر۱۹۰۵ء۱ در جلد ۱ نمبر ۳۳ موخہ ۶؍ نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۴