ملفوظات (جلد 8) — Page 45
ہوسکتا ہے کہ انسان درحقیقت پاک ہوکر محبت الٰہی کو اپنے اندر داخل کر لیتا ہے۔لیکن اگر یہ امر آسان ہوتا تو اولیاء، ابدال، غوث اور اقطاب ایسے کمیاب کیوں ہوتے؟ بظاہر تو وہ سب عام لوگوں کی مانند نمازیں پڑھتے اور روزے رکھتے ہیں مگر فرق صرف توفیق کا ہے۔ان لوگوں نے کسی قسم کی شوخی اور کج روی نہ کی بلکہ خاکساری کا راہ اختیار کیا اور مجاہدات میں لگ گئے۔جو شخص دنیوی حکام کے بالمقابل شوخی کرتا ہے وہ بھی ذلیل کیا جاتا ہے۔پھر اس کا کیا حال ہوگا جو خدا تعالیٰ کے فرستادہ حَکم کے ساتھ شوخی اور گستاخی سے پیش آتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے اَللّٰھُمَّ لَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طُرْفَۃَ عَیْنٍ۔یا اللہ مجھے ایک آنکھ جھپکنے تک بھی میرے نفس کے سپرد نہ کر۔اب ان لوگوں کے تقویٰ کے حال کو دیکھنا چاہیے۔میں ان کے سامنے آیا۔میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا ہے۔کیا انہوں نے میرے معاملہ میں تدبر کیا؟ کیا انہوں نے میری کتب کا مطالعہ کیا؟ کیا یہ میرے پاس آئے کہ مجھ سے سمجھ لیں؟ صرف لوگوں کے کہنے کہلانے سے بے ایمان، دجال اور کافر مجھے کہنا شروع کیا اور کہا کہ یہ واجب القتل ہے۔بغیر تحقیقات کے انہوں نے یہ سب کارروائی کی اور دلیری کے ساتھ اپنا مونھ کھولا۔مناسب تھا کہ میرے مقابلہ میں یہ لوگ کوئی حدیث پیش کرتے۔میرا مذہب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ذرا اِدھر اُدھر جانا بے ایمانی میں پڑنا ہے۔لیکن کیا اس کی پہلے کوئی نظیر دنیا میں موجود ہے کہ ایک شخص ۲۵ سال سے خدا پر افترا کرتا ہے اور خدا تعالیٰ ہر روز اس کی تائید اور نصرت کرتا ہے۔وہ اکیلا تھا اور خدا نے تین لاکھ آدمی اس کے ساتھ شامل کر دیا۔کیا تقویٰ کا حق ہے کہ اس کے مخالف بے ہودہ شور مچایا جاوے اور اس کے معاملہ میں کوئی تحقیقات نہ کی جاوے۔عقیدہ وفات مسیح علیہ السلام کی اہمیت وفاتِ مسیح پر قرآن ہمارے ساتھ ہے۔معراج والی حدیث ہمارے ساتھ ہے۔صحابہؓ کا اجماع ہمارے ساتھ ہے۔کیا وجہ ہے کہ تم حضرت عیسیٰ کو وہ خصوصیت دیتے ہو جو دوسرے کے لیے نہیں۔مجھے ایک بزرگ کی بات بہت ہی پیاری لگتی ہے۔اس نے لکھا ہے کہ اگر دنیا میں کسی کی زندگی کا میں قائل ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا قائل ہوتا دوسرے کی زندگی سے ہم کو کیا فائدہ؟