ملفوظات (جلد 8) — Page 320
کیا تھا آخر بدکاری اور شراب خوری میں صرف ہوتا ہے اور وہ اولاد ایسے ماں باپ کے لیے شرارت اور بد معاشی کی وارث ہوتی ہے۔اولاد کا ابتلا بھی بہت بڑا ابتلا ہے۔اگر اولاد صالح ہو تو پھر کس بات کی پروا ہو سکتی ہے۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے وَ هُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ (الاعراف:۱۹۷) یعنی اللہ تعالیٰ آپ صالحین کا متولی اور متکفل ہوتا ہے۔اگر بد بخت ہے تو خواہ لاکھوں روپیہ اس کے لیے چھوڑ جاؤ وہ بد کاریوں میں تباہ کرکے پھر قلاش ہو جائے گی اور ان مصائب اور مشکلات میں پڑے گی جو اس کے لیے لازمی ہیں۔جو شخص اپنی رائے کو خدا تعالیٰ کی رائے اورمنشا سے متفق کرتا ہے وہ اولاد کی طرف سے مطمئن ہو جاتا ہے اور وہ اسی طرح پر ہے کہ اس کی صلاحیت کے لیے کوشش کرے اور دعائیں کرے۔اس صورت میں خود اللہ تعالیٰ اس کا تکفّل کرے گا۔اور اگر بد چلن ہے تو جائے جہنم میں۔اس کی پروا تک نہ کرے۔حضرت داؤد علیہ السلام کا ایک قول ہے کہ میں بچہ تھا، جوان ہوا، اب بوڑھا ہوگیا میں نے متقی کو کبھی ایسی حالت میں نہیں دیکھا کہ اسے رزق کی مار ہو اور نہ اس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے دیکھا۔اللہ تعالیٰ تو کئی پشت تک رعایت رکھتا ہے۔پس خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لیے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہوجاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لیے سعی اور دعا کرو۔جس قدر کوشش تم ان کے لیے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اسی قدر کوشش اس امر میں کرو۔خوب یاد رکھو کہ جب تک خدا تعالیٰ سے رشتہ نہ ہو اور سچا تعلق اس کے ساتھ نہ ہو جاوے کوئی چیز نفع نہیں دے سکتی۔یہودیوں کو دیکھو کہ کیا وہ پیغمبروں کی اولاد نہیں؟ یہی وہ قوم ہے جو اس پر ناز کیا کرتی تھی اور کہا کرتی تھی نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ(المائدۃ:۱۹) ہم اللہ کے فرزند اور اس کے محبوب ہیں مگر جب انہوں نے خدا تعالیٰ سے رشتہ توڑ دیا اور دنیا ہی دنیا کو مقدم کر لیا کیا نتیجہ ہوا؟ خدا تعالیٰ نے اسے سؤر اور بندر کہا۔اور اب جو حالت ان کی مال و دولت ہوتے ہوئے بھی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔