ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 303

گئے ہیں اور بُت پرست ہندوؤں کے ساتھ اپنے تعلقات پیدا کر لیے ہیں۔اس سکھ نے جواب دیا کہ بے شک باوا صاحب فرما گئے ہیں کہ بے نماز کتا ہوتا ہے اور صبح سویرے اٹھ کر وضو کر کے نماز پڑھنی چاہیے۔۱ ۱۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء پیشگوئی بڑا معجزہ ہوتی ہے پیشگوئیوں اور معجزات کا ذکر تھا حضرت نے فرمایا کہ پہلے انبیاء کی کتابوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بڑا معجزہ پیشگوئی ہی ہے۔پیشگوئی کے سوائے دوسرے معجزات میںکئی قسم کے شبہات ہوتے ہیں اور وہ صرف ایک عارضی بات ہوتی ہے۔بہت سے تماشہ کرنے والے بھی ایسے کام کرتے ہیں کہ لوگ حیرت میں رہ جاتے ہیں۔مگر کوئی تماشہ کرنے والا پیشگوئی کے کام میں پیش دستی نہیں کر سکتا۔خواجہ کمال الدین صاحب نے عرض کیا کہ اس زمانہ میں یا تو بالخصوص پیشگوئی ایک نمایاں معجزہ ہے کیونکہ فلسفی اور سائنسدان لوگوں نے دوسرے معجزات کے متعلق کچھ نہ کچھ راز بیان کئے ہیں لیکن پیشگوئی کے متعلق چونکہ وہ کچھ سمجھ نہیں سکے کہ اس میں کیا راز ہو سکتا ہے یا کس ظاہری سائنس کے مطابق پیشگوئی کی جا سکتی ہے۔اس واسطے پیشگوئی کا انہوںنے صاف انکار کر دیا ہے کہ پیشگوئی کوئی ہوتی ہی نہیں۔لہٰذا اس زمانہ میں پیشگوئی کرنا اور اس کا ثابت کر دینا معجزہ دکھانے کا یہی سب سے بڑا ذریعہ ہے جس میں دنیا دار عاجز ہیں۔حضرت نے فرمایا کہ پیشگوئیوں پر ہی پہلے انبیاء بھی زور دیتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بہت سی پیشگوئیاں کیں جن میں سے بہت پوری ہوچکی ہیں کیونکہ ان کےپورا ہونے کا وقت آگیا تھا۔چنانچہ آپ نے ایک بڑی آگ کے نمودار ہونے کی پیشگوئی کی تھی اور اس کے متعلق تمام نشانات اور علامات کا ذکر کیا تھا۔وہ پیشگوئی جب صحیح بخاری وغیرہ کتب میں درج ہوگئی اور وہ کتابیں ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۴۲ مورخہ ۱۸؍اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۴