ملفوظات (جلد 8) — Page 301
پانچ روپے کی بھی نوکری نہ مل سکتی۔مگر چونکہ وہ خدا کے بنے اس واسطے دین و دنیا میں وہ مالا مال ہوگئے۔حقیقۃ الوحی کے مطالعہ کی تلقین فرمایا۔حقیقۃ الوحی کے تین سو سے زائد صفحات لکھے گئے ہیں۔اس کتاب میں ہر قسم کے دلائل لکھے گئے ہیں۔جماعت کے لوگوں کو چاہیے کہ اس کو بغور مطالعہ کریں۔جن لوگوں کو فرصت شوق اور فہم حاصل ہوگا اور اس کو بغورمطالعہ کریں گے ان میں ایک طاقت پیدا ہوجائے گی اور وہ پھر اس بات کے محتاج نہ رہیں گے کہ ایسے سوالات کے جوابات کسی سے دریافت کریں۔جماعت کے سب لوگوں کو چاہیے کہ یہ طاقت اپنے اندر پیدا کریں۔کیونکہ مخالفین کی عادت ہے کہ خواہ مخواہ چھیڑ دیتے ہیں اور بعض ایسے شریر ہوتے ہیںکہ خود تو اعتراض کر دیتے ہیں اور جب دوسرا آدمی جواب دینے لگے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو کوئی اعتراض نہیں کرتے ہم نے تو یونہی ایک بات کہی تھی۔ہماری عادت تو بحث کرنے کی نہیں ایسے لوگ بڑے خبیث ہوتے ہیں ان کو ضرور جواب دینا چاہیے اور مختصر جواب دینا چاہیے تاکہ جلدی ان کو شرمندگی حاصل ہو۔علاوہ ازیں مختصر اور معقول جواب ہر امر کے واسطے یاد رکھناچا ہیے کیونکہ آجکل دنیا دار دینی معاملات کی طرف توجہ نہیں رکھتے اور دینی باتوں کے سننے میں اپنا تضیع اوقات خیال کرتے ہیں۔پس ایسے لوگوں کو مختصر بات سنانی چاہیے جو کہ فوراًان کے دماغ میں چلی جاوے اور اپنا اثر کرجائے۔غلام دستگیر قصوری غلام دستگیر قصوری کا ذکر تھا۔فرمایا۔اس نے ایک ایسا مباہلہ کیا تھا جس کی نظیر پہلے بھی اسلامی دنیا میں موجود ہے جس کا اس نے خود ہی اپنے رسالہ میں ذکر کیا ہے کہ ایک بزرگ محمد طاہر نام تھے ان کے زمانہ میںدو شخص پیدا ہوئے۔ایک نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور ایک نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا جس پر مولوی محمد طاہر صاحب نے خدا تعالیٰ کے حضور میں دعا کی کہ یا الٰہی اگر یہ مدعی جھوٹھے ہیںتو ان کو ہلاک کر اور اگر ان کو نہ ماننے میں میں جھوٹا ہوں تو مجھے ہلاک کر۔چونکہ وہ دونوں