ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 292

نبی بخش۔ایک شخص نے سوال کیا کہ میرا نام نبی بخش ہے کیا یہ ضروری ہے کہ میں اپنے نام میں تبدیلی کر لوں۔فرمایا۔یہ ضروری نہیں۔نبی بخش کے معنے ہیں کہ نبی کی شفاعت سے اور اس کے طفیل سے بخشا گیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت برحق ہے اور قرآن شریف سے۔۱ یکم ستمبر ۱۹۰۶ء مخالفت ہمیشہ راستبازوں کی ہوتی ہے ایک اخبار کی مخالفانہ اور تعصب اور جھوٹھ سے بھری ہوئی تحریر پیش ہوئی۔فرمایا۔یہ لوگ لکھ لیں جو کچھ ان کا جی چاہتا ہے مگر کب تک؟ آخر کار سچائی سچائی ہے اور جھوٹھ جھوٹھ ہے اور دنیا کے سامنے جلد کھل جائے گا کہ حق پر کون ہے اور جھوٹے خود بخود مٹ جائیں گے کیونکہ جھوٹھ کو کبھی فروغ نہیں ہو سکتا۔فرمایا۔تعجب ہے ان لوگوں پر کہ نہایت بے باکی سے کہہ دیتے ہیں کہ کوئی زلزلہ نہیں آئے گا۔یہ سب پیشگوئیاں جھوٹی ہیں۔ان کو چاہیے تھا کہ انتظار کرتے اور ایسی جلد بازی سے تکذیب نہ کرتے۔دنیوی عدالتوں میں ایک مقدمہ پیش ہوتا ہے تو اس جگہ بھی انسان خوفزدہ رہتا ہے اور بیہودہ گوئی سے یہ نہیں کہتا پھرتا کہ مجھ کو ڈگری حاصل ہوجائے گی۔چہ جائیکہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں مقدمہ پیش ہے اور یہ لوگ اتراتے پھرتے ہیں۔فرمایا کہ مخالفت ہمیشہ راستبازوں کی ہوتی ہے۔جھوٹوں کی کوئی مخالفت نہیں کرتا۔بلکہ لوگ ان کے ساتھ ہوجاتے ہیں اور یہ سنت اللہ ہے۔ہر نبی کے زمانہ میں کوئی نہ کوئی جھوٹھا مدعی بھی ضرور پیدا ہوتا ہے۔حضرت عیسیٰ کے زمانہ میں بھی دو اور شخصوں نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تھا مگر یہودیوں نے ان دونوں کی کچھ مخالفت نہ کی اور نہ ان کو کچھ ستایا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیچھے پڑ گئے اور ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۱ و ۲ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ صفحہ ۱۸