ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 291

ہوئی ہے۔۱ ۲۶؍اگست۱۹۰۶ء میاں اسماعیل صاحب ساکن ترگڑی کا ایک تحریری سوال حضرت صاحب کی خدمت میں پیش ہوا کہ قربانی کا گوشت غیر مسلم کو دینا جائز ہے یا نہیں۔حضرت نے فرمایا۔صدقہ کے واسطے مسلم یا غیر مسلم کی قید ضروری نہیں۔کافر محتاج مسکین کو بھی صدقہ دیا جا سکتا ہے۔ایسا ہی دعوت کے واسطے بھی جائز ہے کہ تالیف قلوب کے واسطے غیر مسلم کو دعوت کی جاوے۔مذکورہ بالا صاحب کا ہی ایک اور سوال پیش ہوا کہ جہاں ایک دفعہ نماز ہو جاوے وہاں اسی نماز کے واسطے دوبارہ جماعت ہو سکتی ہے یا نہیں؟ فرمایا۔اس میں کچھ حرج نہیں حسب ضرورت اور جماعت بھی ہو سکتی ہیں۔جہلم سے آئے ہوئے ایک شخص نے سوال کیا کہ جہلم میں ایک حضور کا مرید ہے وہ غیراحمدیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتا ہے اور کبھی کبھی ہمارا امام بننے کا بھی اس کو اتفاق ہوتا ہے اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا۔جب کہ وہ لوگ ہم کو کافر قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ان کو کافر کہنے میں ہم غلطی پر ہیں تو ہم خود کافر ہیں تو اس صورت میں ان کے پیچھے نماز کیونکر جائز ہو سکتی ہے۔ایسا ہی جو احمدی انکے پیچھے نماز پڑھتا ہے جب تک توبہ نہ کرے اس کے پیچھے تم نماز نہ پڑھو۔تمباکو نوشی ایک شخص نے سوال کیا کہ سنا گیا ہے کہ آپ نے حقہ نوشی کو حرام فرمایا ہے۔فرمایا۔ہم نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا کہ تمباکو پینا مانند سؤر اور شراب کے حرام ہے۔ہاں ایک لغو امر ہے اور اس سے مومن کو پرہیز چاہیے البتہ جو لوگ کسی بیماری وغیرہ کے سبب مجبور ہوں وہ بطور دوائی یا علاج کے استعمال کریں تو حرج نہیں۔۱ بدر جلد ۲ نمبر ۳۲ مورخہ ۹؍اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۴ نیز الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۸ مورخہ ۱۰؍اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۹