ملفوظات (جلد 8) — Page 290
ہے۔آخر ایک نہ ایک دن سب کے ساتھ یہی حال ہونے والا ہے۔مگر غربت کے ساتھ بے شر ہو کر مسکینی اور عاجزی میں جو لوگ مرتے ہیں ان کی پیشوائی کے واسطے گویا بہشت آگے آتا ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ نے لعزر کے متعلق بیان کیا ہے۔نماز میں دعا نماز کے اندر اپنی زبان میں دعا مانگنی چاہیے۔کیونکہ اپنی زبان میں دعا مانگنے سے پورا جوش پیدا ہوتا ہے۔سورۂ فاتحہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے وہ اسی طرح عربی زبان میںپڑھنا چاہیے اور قرآن شریف کا حصہ جو اس کے بعد پڑھا جاتا ہے وہ بھی عربی زبان میں ہی پڑھنا چاہیے اور اس کے بعد مقررہ دعائیں اور تسبیح بھی اسی طرح عربی زبان میں پڑھنی چاہئیں لیکن ان سب کا ترجمہ سیکھ لینا چاہیے اور ان کے علاوہ پھر اپنی زبان میں دعائیں مانگنی چاہئیں تاکہ حضور دل پیدا ہوجاوے۔کیونکہ جس نماز میں حضور دل نہیں وہ نماز نہیں۔آجکل لوگوں کی عادت ہے کہ نماز تو ٹھونگے دار پڑھ لیتے ہیں۔جلدی جلدی نماز کو ادا کر لیتےہیں جیسا کہ کوئی بیگار ہوتی ہے۔پھر پیچھے سے لمبی لمبی دعائیں مانگنا شروع کرتے ہیں۔یہ بدعت ہے۔حدیث شریف میں کسی جگہ اس کا ذکر نہیں آیا کہ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد پھر دعا کی جاوے۔نادان لوگ نماز کو تو ٹیکس جانتے ہیں اور دعا کو اس سے علیحدہ کرتے ہیں۔نماز خود دعا ہے۔دین و دنیا کے تمام مشکلات کے واسطے اور ہر ایک مصیبت کے وقت انسان کو نماز کے اندر دعائیں مانگنی چاہئیں۔نماز کے اندر ہر موقعہ پر دعا کی جا سکتی ہے۔رکوع میں بعد تسبیح، سجدہ میں بعد تسبیح، التحیات کے بعد، کھڑے ہو کر رکوع کے بعد بہت دعائیں کرو تاکہ مالا مال ہوجاؤ۔چاہیے کہ دعا کے واسطے روح پانی کی طرح بہہ جاوے۔ایسی دعا دل کو پاک و صاف کر دیتی ہے۔یہ دعا میسر آوے تو پھر خواہ انسان چار پہر تک دعا میں کھڑا رہے۔گناہوں کی گرفتاری سے بچنے کے واسطے اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعائیں مانگنی چاہئیں۔دعا ایک علاج ہے جس سے گناہ کی زہر دور ہوجاتی ہے بعض نادان لوگ خیال کرتے ہیں کہ اپنی زبان میں دعا مانگنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔یہ غلط خیال ہے۔ایسے لوگوں کی نماز تو خود ہی ٹوٹی