ملفوظات (جلد 8) — Page 289
لوگ جان لیں گے کہ خدا موجود ہے۔لوگ شیطانی خیالات میں ایسے بڑھے ہوئے ہیں کہ ایک قدم پیچھے نہیں ہٹانا چاہتے۔مگر خدا تعالیٰ جب چاہتا ہے تو وہ ایسی ہیبت ڈال دیتا ہے کہ لوگ تمام بدیوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔جب تک خدا کسی کو نہ کھینچے وہ کس طرح کھینچا جا سکتا ہے۔ہمارا بھروسہ تو صرف خدا پر ہے وہ قوم جو ہم کو کافر کہتی ہے اس سے ہم امید ہی کیا کر سکتے ہیں۔خدا ہی سچا بادشاہ اور سچا حکمران ہے۔جب تک کہ آسمان پر کچھ نہیں ہوتا زمین پر کچھ نہیں ہو سکتا۔طبیب اپنے بیماروں کے واسطے دعا کیا کریں فرمایا۔طبیب کے واسطے بھی مناسب ہے کہ اپنے بیمار کے واسطے دعا کیا کرے کیونکہ سب ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔خدا تعالیٰ نے اس کو حرام نہیں کیا کہ تم حیلہ کرو۔اس واسطے علاج کرنا اور اپنے ضروری کاموں میں تدابیر کرنا ضرور ی امر ہے لیکن یاد رکھو کہ مؤثر حقیقی خدا تعالیٰ ہی ہے۔اسی کے فضل سے سب کچھ ہو سکتا ہے۔بیماری کے وقت چاہیے کہ انسان دوا بھی کرے اور دعا بھی کرے۔بعض وقت اللہ تعالیٰ مناسب حال دوائی بھی بذریعہ الہام یا خواب بتلا دیتا ہے اور اس طرح دعا کرنے والا طبیب علم طِبّ پر ایک بڑا احسان کرتا ہے۔کئی دفعہ اللہ تعالیٰ ہم کو بعض بیماریوں کے متعلق بذریعہ الہام کے علاج بتلا دیتا ہے۔یہ اس کا فضل ہے۔۱ یکم اگست ۱۹۰۶ء صدمات پر صبر حافظ محمد ابراہیم صاحب جن کی بیوی کل شام کو فوت ہو چکی ہے۔حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حافظ صاحب کو مخاطب کرکے حضرت نے فرمایا کہ آپ پر اپنی بیوی کے مرنے کا بہت صدمہ ہوا ہے۔اب آپ صبر کریں تاکہ آپ کے واسطے ثواب ہو۔آپ نے اپنی بیوی کی خدمت بہت کی ہے۔باوجود اس معذوری کے کہ آپ نابینا ہیں۔آپ نے خدمت کا حق ادا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے پاس اس کا اجر ہے۔مرنا تو سب کے واسطے مقدر ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۳۲ مورخہ ۹؍اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ نیز الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۸ مورخہ ۱۰؍اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۹