ملفوظات (جلد 8) — Page 287
شکار لے آ اور پکا کر مجھے کھلا تاکہ میں تجھے برکت دوں اور تیرے واسطے دعا کروں۔اس قسم کے بہت سے قصے اولیاء کے حالات میں درج ہیں اور ان میں حقیقت یہی ہے کہ دعا کرنے والے اور کرانے والے کے درمیان تعلق ہونا چاہیے۔انسان پر جس قدر مصائب مالی یا جانی وارد ہوتے ہیں وہ سب خدا تعالیٰ کی نا رضا مندی کے سبب سے ہوتے ہیں۔انسان کو چاہیے کہ اپنی حالت میں تبدیلی کرے اور خدا کو راضی کرے تب تمام تکالیف درد دُور ہوجاتی ہیں۔دنیا کی تمام اشیاء اور تمام دل انسانوں کے خدا کے قبضہ قدرت میں ہیں۔دیکھو! جب تم کسی کے گھر میں جاؤ اور گھر والا تم پر راضی ہو تو اس کے تمام نوکر تمہاری خاطر کریں گے اور تمہارے ساتھ ادب سے پیش آئیں گے لیکن اگر تم آقا کو ناراض کر دو تو کوئی نوکر تمہاری پروا نہ کرے گا بلکہ سب بے عزتی کرنے پر آمادہ ہوجائیں گے۔۱ بلا تاریخ۲ دعا اور اس کی قبولیت فرمایا۔میرے ساتھ عادت اللہ یہ ہے کہ جب میں کسی امر کے واسطے توجہ کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں تو اگر وہ توجہ اپنے کمال کو پہنچ جائے اور دعا اپنے انتہائی نقطے کو حاصل کر لے تب ضرور اس کے متعلق کچھ اطلاع دی جاتی ہے۔اس میں شک نہیں کہ جب انسان خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہے تو اکثر خدا تعالیٰ اپنے بندے کی دعا قبول کرتا ہے لیکن بعض دفعہ خدا تعالیٰ اپنی بات منواتا ہے۔دو دوستوں کی آپس میں دوستی کے قائم رہنے کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ کبھی اُس نے اِس کی بات مان لی اور کبھی اِس نے اُس کی بات مان لی۔ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہمیشہ ایک ہی دوسرے کی بات مانتا رہے اور وہ اپنی بات کبھی نہ منوائے۔جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ ہمیشہ اس کی دعا قبول ہوتی رہے اور اسی کی خواہش پوری ہوتی رہے وہ بڑی غلطی کرتا ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۳۱مورخہ ۲؍ اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ ۲ غالباً یہ جولائی ۱۹۰۶ء کی کسی تاریخ کے ملفوظات ہیں۔واللہ اعلم بالصواب (مرتّب)