ملفوظات (جلد 8) — Page 18
زخم تو مل جاتا ہے پر حجت کا زخم نہیں ملتا۔دلائل اور براہین کے ساتھ اس وقت مخالفین کو قائل کرنا چاہیے۔میں آپ لوگوں کی خیر خواہی کی ایک بات کہتا ہوں ذرا غور سے سنو۔ہر دو پہلوؤں پر توجہ کرو۔اگر عیسائیوں کے سامنے اقرار کیا جائے کہ وہ شخص جس کو تم خدا اور معبود مانتے ہو بیشک وہ اب تک آسمان پر موجود ہے ہمارے نبی تو فوت ہوگئے پر وہ اب تک زندہ ہے اور قیامت تک رہے گا نہ کھانے کا محتاج نہ پینے کا محتاج۔اگر ہم ایسا کہیں تو اس کا کیا نتیجہ ہوگا؟ اور اگر ہم عیسائیوں کے سامنے یہ ثابت کر دیں کہ جس شخص کو تم اپنا معبود اور خدا مانتے ہو وہ مر گیا۔مثل دوسرے انبیاء کے فوت ہو کر زمین میں دفن ہے اور اس کی قبر موجود ہے۔اس کا کیا نتیجہ ہوگا؟ بحثوں کو جانے دو اور میری مخالفت کے خیال کو چھوڑو۔میں پرواہ نہیں کرتا کہ مجھے کوئی کافر کہے، دجال کہے یا کچھ اور کہے۔تم یہ کہو کہ ان ہر دو باتوں میں سے کونسی بات ہے جس سے عیسوی مذہب بیخ و بنیاد سے اکھڑ جاتا ہے۔اس تقریر کا میاں عبد الحق صاحب پر بہت اثر ہوا۔چنانچہ فوراً کھڑا ہو کر حضرت اقدس کے ہاتھ چومے اور کہا میں سمجھ گیا۔آپ اپنا کام کرتے جائیں۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ترقی دے۔انشاء اللہ تعالیٰ ضرور آپ کی ترقی ہوگی۔یہ بات صحیح ہے۔۱ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۵ء (بمقام دہلی) ایک رؤیا دیکھا کہ بڑا سخت زلزلہ آیا ہے۔ایک رؤیا کی تعبیر فرمایا۔اگلے دن جو خواب میں چنے دیکھے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ میر ناصر نواب صاحب۲ کی بیماری کی طرف اشارہ تھا۔۳ ۱ بدر جلد ۱ نمبر ۳۱ مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۱تا۳ ۲ میر صاحب دو روز سے درد شکم سے بہت تکلیف میں ہیں۔لیکن اب بہ نسبت سابق آرام ہے۔(ایڈیٹر) (بدر جلد ۱ نمبر ۳۱ مورخہ ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۴) ۳ بدر جلد ۱ نمبر ۳۱ مورخہ ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۴