ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 248

۲۶ اپریل ۱۹۰۶ء غیر معمولی ایام فرمایا۔یہ دن ایسے ہیں کہ گویا آسمان کی زمین کے ساتھ کشتی ہے۔بالکل غیر معمولی دن ہیں اور غیر معمولی واقعات ہر طرف سے پیش آرہے ہیں اور اپنے غیر معمولی ہونے میں روز بروز بڑھتے جاتے ہیں۔کہیں زلازل ہیں کہیں طوفان آرہے ہیں۔کہیں لڑائیوں میں مخلوق ماری جاتی ہے کہیں طوفان سے لوگ تباہ ہو رہے ہیں کہیں آگ لگ رہی ہے۔مگر افسوس کہ لوگ ان سب باتوں کو معمولی سمجھ کر اپنی غفلت میں حسب معمول سوئے ہوئے ہیں اور کچھ فکر نہیں کرتے۔خدا تعالیٰ کا منشا اَور ہے اور لوگوں کے ارادے کچھ اَور ہیں۔راستباز اطاعت اور اعمال سے پہچانا جاتا ہے۔جس صورت میں ہم ان لوگوں کے سامنے نشان پیش کرتے ہیں اور قرآن اور حدیث کے نصوص دکھاتے ہیں اور پھر وہ انکار کرتے ہیں تو وہ لوگ راستباز نہیں کہلا سکتے۔خدا کو کیا پروا ہے کہ یہ لوگ تعداد میں زیادہ ہیں اللہ تعالیٰ کثرت اور تعداد کے رعب میں نہیں آتا قَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ (سبا:۱۴) دیکھو! حضرت نوحؑکے وقت کس قدر مخلوق غرقِ آب ہوئی اور ان کے بالمقابل جو لوگ بچ گئے ان کی تعداد کس قدر تھی۔پیر زادگی کا مرض فرمایا۔پیر زادگی کا مرض دق اور سِل سے بد تر ہے کیونکہ ان میں رعونت اور تکبر کا مادہ ہوتا ہے اور خواہ مخواہ ایک عظمت اپنی دکھاتے ہیں اور فقیری کا دم مارتے رہتے ہیں۔۱ ۵؍مئی ۱۹۰۶ء طبقہ لولاک الہام الٰہی لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ کا تذکرہ تھا۔فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی کمال رضا جوئی کی حالت میں یہ طبقہ خدمت گذاران کا لو لاک ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۱۷ مورخہ ۲۶؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲