ملفوظات (جلد 8) — Page 244
ایک نئی تصنیف فرمایا۔ہم نے ایک نیا رسالہ لکھنا شروع کیا ہے جس کا نام ’’حقیقۃ الوحی‘‘ ہوگا۔بعض لوگ الہام اور وحی کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ وحی اور الہام کی حقیقت کیا ہے؟ بمبئی بمبئی کا ذکر تھا کہ ایک جزیرہ ہے اور سمندر کے پانی کو روک کر اکثر جگہ مکانات بنائے گئے ہیں۔فرمایا۔مجھے بھی کئی دفعہ خیال آیا ہے کہ جب سخت زلزلہ آئے گا تو اس وقت بمبئی کا کیا حال ہوگا؟ زلزلہ کے بارہ میں فرمایا۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں دیر کر دی ہے اس واسطے مخالفین کی شوخیاں بڑھتی جائیں گی اور وہ گالیاں دینے میں اور بھی تیزی دکھائیںگے۔’’پھر چلے آتے ہیں یارو! زلزلہ آنے کے دن‘‘ فرمایا۔پیسہ اخبار جو ایک لاکھ چھپا ہے اور ایک ایک پرچہ کو کئی کئی آدمی پڑھیں گے تو اس طرح زلزلہ والی پیشگوئی کئی لاکھ آدمیوں تک پہنچ جائے گی۔اس نظم۱ میں ہم نے لوگوں کو نیک نصائح کی ہیں اور مخلوق کو توبہ کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے اور اسلام کی طرف دعوت کی ہے۔ایڈیٹر نے لکھا ہے کہ مجھے اس کے ساتھ اتفاق نہیں تو کیا وہ نہیں چاہتا کہ لوگ نیک بنیں؟ امرتسر میں ایک رشید فرمایا۔امرتسر ایک ایسی جگہ ہے جس میں مادہ رشد کے لوگ حق کو قبول کرنے والے کم ہوتے ہیں۔آج وہاں سے ایک خط آیا ہے جس میں ایک شخص لکھتا ہے کہ میں کتاب چشمہ مسیحی پڑھ کر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اسلام کے واسطے اس قسم کی تائید اور اخلاص ایک مفتری کی تحریر میں نہیں ہو سکتا۔اس واسطے میں آپ کے مریدین میں شامل ہوتا ہوں میرا نام مبائعین میںلکھا جائے۔فرمایا۔مجھے خوشی ہوئی کہ اس کتاب کے ذریعہ سے ایک جان بچ گئی۔۲ ۱ حاشیہ۔’’پھر چلے آتے ہیں یارو زلزلہ آنے کے دن‘‘ والی نظم مراد ہے۔(مرتّب) ۲ بدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخہ ۵؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۳