ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 243

ایک بڑھیا نے دیکھا کہ خدا کا نام تسبیح پر گن رہا ہے۔اس نے کہا کیا کوئی دوست کا نام گن کر لیتا ہے۔ا س نے اسی جگہ تسبیح پھینک دی۔اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بے حساب ہیں ان کو کون گن سکتا ہے۔۱ یکم اپریل ۱۹۰۶ء وحی الٰہی وحی الٰہی اَخَّرَہُ اللہُ اِلٰی وَقْتٍ مُّسَمًّی کا ذکر تھا۔فرمایا۔اس سے پہلے دن دعا کے رنگ میں الہام ہوا تھا کہ رَبِّ اَخِّرْ وَقْتَ ھٰذَا دوسرے دن اس دعا کی قبولیت کے اظہار میں یہ الہام ہوا۔خود ہی اللہ تعالیٰ دعا کراتا ہے اور خود اس کو قبول کرتا ہے۔طریق ادب ڈاکٹر نور محمد صاحب نے ذکر کیا کہ لاہور میں ایک شخص نے جو اپنی جماعت کا ہے مجھ سے ذکر کیا کہ پٹیالہ میں کسی فقیر نے پیشگوئی کی ہے کہ فلاں تاریخ کو زلزلہ آئے گا اور وہ تاریخ قریب ہے۔میں نے کہا کہ اس کی طرف ہرگز توجہ نہیں کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے جو اپنا رسول بھیجا ہے۔جب تک اس کے ذریعہ سے کوئی خبر نہ ملے ہرگز کوئی دوسری بات قابل اعتبار نہیں۔حضرت نے فرمایا۔یہی طریقِ ادب ہے ایسے لوگوں کی باتوں پر جو فقیر بنے پھرتے ہیں یقین کر لینا ایک الحاد ہے اور ایمان سے خارج ہونا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ سب لوگوں کو ایک ہی حلقے میں لائے اور اسی کے ذریعہ سے تمام خبریں دوسروں کو پہنچاوے تو پھر کسی دوسرے شخص کو درمیان میںلانا اور یقین کرنا کہ اس کو زلزلہ کے دن کی خبر دی گئی ہے یہ ایک شرک کی بنیاد ہے۔ہمیں جب زلزلہ کے متعلق الہام ہوا تب ہم خیموں میں گئے اور اب جب اس کی تاخیر کی خبر دی گئی تو ہم واپس اپنے مکانوں میں آگئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نکتہ نواز ہے۔ایسا ہی نکتہ گیر ہے۔بعض دفعہ انسان سمجھتا ہے کہ تھوڑی سی بات ہے مگر وہ بات اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہوجاتی ہے۔۱ بدر جلد ۲ نمبر ۱۲ مورخہ ۲۲؍مارچ ۱۹۰۶ءصفحہ ۲ نیز الحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۰ مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۱