ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 239

سے چھبیس یا ستائیس برس پہلے خدا تعالیٰ کا وعدہ شائع کیا گیا تھا کہ یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ وَیَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔ان سب لوگوں کے آنے سے پہلے خدا تعالیٰ نے ان کے آنے کی خبر بھی دی۔اور یہ بھی اطلاع دی تھی کہ ان کے کھانے کے سامان بھی میں دور دور سے تیرے پاس لاؤں گا۔ان باتوں کو دیکھ کر کتنا بھروسہ کرنا چاہیے کہ خود بخود بغیر ہماری کوششوں کے ہر قسم کے سامان مہیا کرتا ہے۔گلے شکوے کرنا اچھا نہیں ہے ایک روز ایک عورت نے کسی دوسری عورت کا گلہ کیا۔آپ نے فرمایا کہ دیکھو یہ بہت بُری عادت ہے جو خصوصاً عورتوں میں پائی جاتی ہے۔چونکہ مرد اَور کام بہت رکھتے ہیں اس لیے ان کو شاذ و نادر ہی ایسا موقع ملتا ہے کہ وہ بے فکری سے بیٹھ کر آپس میں باتیں کریں اور اگر ایسا موقع بھی ملے تو ان کو اَور بہت سی باتیں ایسی مل جاتی ہیں جو وہ بیٹھ کر کرتے ہیں لیکن عورتوں کو نہ علم ہوتا ہے اور نہ کوئی ایسا کام ہوتا ہے اس لیے سارا دن کا شغل سوائے گلہ اور شکایت کے کچھ نہیں ہوتا۔ایک شخص تھا اس نے کسی دوسرے کو گنہگار دیکھ کر خوب اس کی نکتہ چینی کی اور کہا کہ تو دوزخ میں جائے گا۔قیامت کے دن خدا تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ کیوں تجھ کو میرے اختیارات کس نے دیئے ہیں؟ دوزخ اور بہشت میں بھیجنے والا تو میں ہی ہوں تو کون ہے؟ اچھا جا میں نے تجھ کو دوزخ میں ڈالا اور یہ گنہگار بندہ جس کا تو گلہ کیا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ یہ ایسا ہے ویسا ہے اور دوزخ میں جائے گا اس کو میں نے بہشت میں بھیج دیا ہے۔سو ہر ایک انسان کو سمجھنا چاہیے کہ ایسا نہ ہو کہ میں ہی الٹا شکار ہوجاؤں۔غیبت سے بچو فرمایا۔دل تو اللہ تعالیٰ کی صندوقچی ہوتا ہےا ور اس کی کنجی اس کے پاس ہوتی ہے۔کسی کو کیا خبر کہ اس کے اندر کیا ہے؟ تو خواہ مخواہ اپنے آپ کو گناہ میں ڈالنا کیا فائدہ؟ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک شخص بڑا گنہگار ہوگا۔خدا تعالیٰ اس کو کہے گا کہ میرے قریب ہو جا۔یہاں تک کہ اس کے اور لوگوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے پردہ کر دے گا۔اور اس سے پوچھے گا کہ تو نے فلاں گناہ کیا۔فلاں گناہ کیا۔لیکن چھوٹے چھوٹے گناہ گنائے گا۔وہ کہے گا کہ ہاں یہ گناہ مجھ سے ہوئے ہیں۔خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ اچھا آج کے دن میں نے تیرے سب معاف