ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 214

پوشیدہ رہنا چاہتے تھے۔یہی وجہ تھی جو وہ غارِ حرا میں چھپ کر رہتے اور عبادت کرتے رہتے۔ان کو کبھی وہم بھی نہ آتا تھا کہ وہ وہاں سے نکل کر کہیں يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا(الاعراف:۱۵۹) آپ کا منشا یہی تھا کہ پوشیدہ زندگی بسر کریں۔مگر اللہ تعالیٰ نے یہ نہ چاہا اور آپ کو مبعوث فرما کر باہر نکالا۔اور یہ عادت اللہ ہے کہ جو کچھ بننے کی آرزو کرتے ہیں وہ محروم رہتے ہیں اور جو چھپنا چاہتے ہیں ان کو باہر نکالتا اور سب کچھ بنا دیتا ہے۔پس یقیناً سمجھو کہ میں بھی تنہائی کی زندگی کو پسند کرتا ہوں۔وہ زمانہ جو مجھ پر گذرا ہے اس کا خیال کر کے مجھے اب بھی لذت آتی ہے۔میں طبعاً خلوت پسند تھا مگر خدا تعالیٰ نے مجھے باہر نکالا۔پھر اس حکم کو میں کیونکر رد کر سکتا تھا؟ میں اس نمود اور نمائش کا ہمیشہ دشمن رہا۔لیکن کیا کروں۔جب اللہ تعالیٰ نے یہی پسند کیا تو میں اس میں راضی ہوں اور اس کے حکم سے منحرف ہونا کبھی پسند نہیں کر سکتا۔اس پر دنیا کے جو جی میں آئے کہے میں اس کی پروا نہیں کرتا۔سچے موحد یہ خوب سمجھ رکھو کہ سچے موحد وہی ہیںجو ذرہ بھر نیکی ظاہر نہیںکرتے اور نہ سچائی کے قبول کرنے میں دنیا سے ڈرتے ہیں۔اگر دنیا ان کے کسی فعل سے بدکتی ہے تو انہیں پروا نہیں ہوتی۔بعض کہتے ہیں کہ صحابہؓ جس قدر مجاہدہ کرتے تھے یا روزہ رکھتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ثابت نہیں۔صحابہؓ میں سے بعض بعض قریب قریب رہبانیت کی زندگی کے پہنچ جاتے۔اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے (معاذ اللہ) بڑھے ہوئے تھے۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ تعالیٰ نے جبر اور اکراہ سے باہر نکالا تھا۔آپ کی وہ عادت جو اخفا کی تھی دور نہ ہوئی تھی۔کسی کو کیا معلوم ہے کہ آپ پوشیدہ طور پر کس قدر مجاہدات اور عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے گھرمیں باری تھی۔رات کو جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں۔میں بہت حیران ہوئی اور آپ کو تلاش کیا۔جب کہیںپتہ نہ لگا تو آپ کو ایک قبرستان میں پایا کہ نہایت الحاح کے ساتھ مناجات کر رہے تھے کہ اے میرے خدا!