ملفوظات (جلد 8) — Page 213
مکر و فریب میں آجائے گا۔جو شخص سفلہ طبع ہو کر خدا تعالیٰ کو دھوکہ دینا چاہتا ہے اور نیکی اور راستبازی کی چادر کے نیچے فریب کرتا ہے۔وہ یاد رکھے کہ خدا تعالیٰ اسے اور بھی رسوا کرے گا۔فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا(البقرۃ:۱۱)ایسے ہی لوگوں کے لیے فرمایا ہے۔سچے اخلاص کی نشانی نفاق اور ریاکاری کی زندگی لعنتی زندگی ہے۔یہ چھپ نہیں سکتی۔آخر ظاہر ہو کر رہتی ہے اور پھر سخت ذلیل کرتی ہے۔خدا تعالیٰ کسی چیز کو چھپاتا نہیں، نہ نیکی کو نہ بدی کو۔سچے نکو کار اپنی نیکیوں کو چھپاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ انہیں ظاہر کر دیتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب حکم ہوا کہ تو پیغمبر ہو کر فرعون کے پاس جا تو انہوں نے عذر ہی کیا۔اس میں سِر یہ تھا کہ جو لوگ خدا کے لیے پورا اخلاص رکھتے ہیں وہ نمود اور ریا سے بالکل پاک ہوتے ہیں۔سچے اخلاص کی یہی نشانی ہے کہ کبھی خیال نہ آوے کہ دنیا ہمیں کیا کہتی ہے۔جوشخص اپنے دل میں اس امر کا ذرا بھی شائبہ رکھتا ہے وہ بھی شرک کرتا ہے۔سچا مخلص اس امر کی پروا ہی نہیں کرتا کہ دنیا اسے نیک کہتی ہے یابد۔میں نے تذکرۃ الاولیاء میں دیکھا ہے کہ ایک نیک آدمی جب چھپ کر مناجات کرتا ہے تو اس کی عجیب حالت ہوتی ہے۔وہ اپنے ان تعلقات کو جو خدا تعالیٰ سے رکھتا ہے کبھی ظاہر کرنا نہیں چاہتا۔اگر اس مناجات کے وقت اتفاق سے کوئی آدمی آجاوے تو وہ ایسا شرمندہ ہوتا ہے جیسے کوئی زناکار عین حالت زنا میں پکڑا جاوے۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ ہر نیک آدمی جس کے دل میں اخلاص بھرا ہوا ہے۔وہ طبعاً اپنے آپ کو پردہ میں رکھنا چاہتا ہے۔ایسا کہ کوئی پاکدامن عورت بھی ایسا نہیں رکھتی۔یہ امر ان کی فطرت ہی میں ہوتا ہے۔انبیاء و رسل کی خلوت پسندی یہ مت سمجھو کہ انبیاء و رسل اپنے مبعوث ہونے کے لیے درخواست کرتے ہیں۔ہرگز نہیں۔وہ تو ایسی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں کہ بالکل گمنام رہیں اور کوئی ان کو نہ جانے۔مگر خدا تعالیٰ زور سے ان کو ان کے حجروں سے باہر نکالتا ہے۔ہر ایک نبی کی زندگی ایسی ہی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو دنیا سے