ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 202

کو دل میں جگہ دیتا ہے اور پھر عزم کرتا ہے کہ کسی نہ کسی حیلے سے وہ مال ضرور لینا چاہیے تو پھر یہ گناہ قابل مؤاخذہ ہے۔غرض جب دل عزم کر لیتا ہے اور اس کے لیے شرارتیں اور فریب کرتا ہے تو یہ گناہ قابل مؤاخذہ لکھا جاتا ہے پس یہ اس قسم کے گناہ ہیں جو بہت ہی کم توجہی کے ساتھ دیکھے جاتے ہیں اور یہ انسان کی ہلاکت کا موجب ہوجاتے ہیں۔بڑے بڑے اور کھلے کھلے گناہوں سے تو اکثر پرہیز کرتے ہیں۔بہت سے آدمی ایسے ہوں گے جنہوں نے کبھی خون نہیںکیا یا نقب زنی نہیں کی یا اور اسی قسم کے بڑے بڑے گناہ نہیں کیے۔لیکن سوال یہ ہے کہ وہ لوگ کتنے ہیں جنہوں نے کسی کا گلہ نہیں کیا یا کسی اپنے بھائی کی ہتک کر کے اس کو رنج نہیں پہنچایا یا جھوٹ بول کر خطا نہیں کی؟ یا کم از کم دل کے خطرات پر استقلال نہیں کیا؟ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ ایسے لوگ بہت ہی کم ہوں گے جو ان باتوں کی رعایت رکھتے ہوں اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہوں ورنہ کثرت سے ایسے لوگ ملیں گے جو تفریحاً جھوٹ بولتے ہیں اور ہر وقت ان کی مجلسوں میں دوسروں کا شکوہ و شکایت ہوتا رہتا ہے اور وہ طرح طرح سے اپنے کمزور اور ضعیف بھائیوں کو دکھ دیتے ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلا مرحلہ یہ ہے کہ انسان تقویٰ اختیار کرے۔میں اس وقت بُرے کاموں کی تفصیل بیان نہیں کر سکتا۔قرآن شریف میں اول سے آخر تک اوامر و نواہی اور احکامِ الٰہی کی تفصیل موجود ہے اور کئی سو شاخیں مختلف قسم کے احکام کی بیان کی ہیں۔خلاصۃً یہ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کو ہرگز منظور نہیں کہ زمین پر فساد کریں۔اللہ تعالیٰ دنیا پر وحدت پھیلانا چاہتا ہے۔لیکن جو شخص اپنے بھائی کو رنج پہنچاتا ہے۔ظلم اور خیانت کرتا ہے وہ وحدت کا دشمن ہے۔جب تک یہ بد خیال دل سے دور نہ ہوں کبھی ممکن نہیں کہ سچی وحدت پھیلے۔اس لیے اس مرحلہ کو سب سے اوّل رکھا۔تقویٰ کی حقیقت تقویٰ کیا ہے؟ ہر قسم کی بدی سے اپنے آپ کو بچانا۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابرار کے لیے پہلا انعام شربت کافوری ہے۔اس شربت کے پینے سے دل بُرے کاموں سے ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔اس کے بعد ان کے دلوں میں برائیوں اور