ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 201

کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ایسے لوگ اس کو بالکل ایک معمولی اور چھوٹی سی بات سمجھتے ہیں۔حالانکہ قرآن شریف نے اس کو بہت ہی بُرا قرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ (الـحجرات:۱۳) خدا تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے کہ انسان ایسا کلمہ زبان پر لاوے جس سے اس کے بھائی کی تحقیر ہو اور ایسی کارروائی کرے جس سے اس کو حرج پہنچے۔ایک بھائی کی نسبت ایسا بیان کرنا جس سے اس کا جاہل و نادان ہونا ثابت ہو یا اس کی عادت کے متعلق خفیہ طور پر بے غیرتی یا دشمنی پیدا ہو یہ سب بُرے کام ہیں۔ایسا ہی بخل، غضب یہ سب بُرے کام ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے موافق پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان ان سے پرہیز کرے اور ہر قسم کے گناہوں سے جو خواہ آنکھوں سے متعلق ہوں یا کانوں سے، ہاتھوں سے یا پاؤں سے بچتا رہے کیونکہ فرمایا ہے لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔوْلًا (بنی اسـرآءیل : ۳۷) یعنی جس بات کا علم نہیں خواہ نخواہ اس کی پیروی مت کرو۔کیونکہ کان، آنکھ، دل اور ہر ایک عضو سے پوچھا جاوے گا۔بہت سی بدیاں صرف بد ظنی سے ہی پیدا ہوجاتی ہیں۔ایک بات کسی کی نسبت سنی اور جھٹ یقین کر لیا۔یہ بہت بُری بات ہے جس بات کا قطعی علم اور یقین نہ ہو اس کو دل میں جگہ مت دو۔یہ اصل بد ظنی کو دور کرنے کے لیے ہے۱ کہ جب تک مشاہدہ اور فیصلہ صحیح نہ کرے نہ دل میں جگہ دے اور نہ ایسی بات زبان پر لائے۔یہ کیسی محکم اور مضبوط بات ہے۔بہت سے انسان ہیں جو زبان کے ذریعہ پکڑے جائیں گے۔یہاں دنیا میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے آدمی محض زبان کی وجہ سے پکڑے جاتے ہیں اور انہیں بہت کچھ ندامت اور نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔دل میں جو خطرات اور سر سری خیال گذر جاتے ہیں۔ان کے لیے کوئی مؤاخذہ نہیں۔مثلاً کسی کے دل میں گذرے کہ فلاں مال مجھے مل جاوے تو اچھا ہے۔یہ ایک قسم کا لالچ تو ہے لیکن محض اتنے ہی خیال پر جو طبعی طور پر دل میں آئے اور گذر جاوے کوئی مؤاخذہ نہیں۔لیکن جب ایسے خیال ۱ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۲ مورخہ ۲۴؍جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۲،۳